مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

اسٹیٹ بینک: چار سال میں بیرونی قرضوں پر 16 ارب ڈالر سود ادا

گورنر جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ بیرونی قرضہ تقریباً 107 ارب ڈالر اور زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
اسٹیٹ بینک: چار سال میں بیرونی قرضوں پر 16 ارب ڈالر سود ادا

پاکستان نے گزشتہ چار سالوں میں اپنے بیرونی قرضوں پر تقریباً 16 ارب ڈالر سود ادا کیا ہے، جو سالانہ اوسطاً چار ارب ڈالر بنتا ہے۔ یہ بات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے پیر کو مانیٹری پالیسی کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی، جس موقع پر مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 12 فیصد کر دیا۔

گورنر نے بتایا کہ ملک کا کل بیرونی قرضہ اس وقت تقریباً 107 ارب ڈالر ہے، جو 2022 میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ چار سالوں میں قرضے میں صرف پانچ سے چھ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، یعنی سالانہ تقریباً ایک سے سوا ایک ارب ڈالر، جبکہ 2015 سے 2022 کے دوران یہ اضافہ ہر سال تقریباً 6.5 ارب ڈالر تھا۔

پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق گورنر نے کہا کہ اگر پاکستان نے کوئی نیا قرضہ نہ لیا ہوتا تو ادا کیے گئے سود کی وجہ سے آج بیرونی قرضہ تقریباً 116 ارب ڈالر ہوتا۔

جمیل احمد کے مطابق 10 سے 11 ارب ڈالر کا سود تازہ قرض لینے کے بجائے ان ڈالروں سے ادا کیا گیا جو اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ سے خریدے تھے۔ مرکزی بینک نے اس عرصے میں مارکیٹ سے 30 ارب ڈالر سے زیادہ خریداری کی، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر 2023 کے اوائل میں تقریباً تین ارب ڈالر سے، جب یہ صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے برابر تھے، بڑھ کر اب تقریباً 21.5 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرضوں کی ساخت بہتر ہوئی ہے، اب تقریباً 80 فیصد بیرونی قرضہ کثیرالجہتی اور دوطرفہ اداروں بشمول عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے ہے، جبکہ 2023 کے اوائل میں یہ حصہ تقریباً 55 فیصد تھا۔

گورنر کی توقع ہے کہ اگلے سال بیرونی قرضوں پر سالانہ سود کی ادائیگی تین ارب ڈالر سے کم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک دسمبر 2026 تک ذخائر 23 ارب ڈالر اور جون 2027 تک 25 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتا ہے۔

یہ اعداد و شمار بریفنگ میں گول نمبروں کی صورت میں بتائے گئے۔ ٹیک جوس اور پروپاکستانی، جن دونوں نے یہ پریس کانفرنس رپورٹ کی، ان کی رپورٹوں میں سود کی ادائیگی کی قرض دہندہ کے حساب سے یا کرنسی کے حساب سے تفصیل نہیں دی گئی۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔