مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

علما کا حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اتحاد کا مطالبہ

اسلام آباد میں منعقدہ اجتماع میں کہا گیا کہ بیت اللہ اور روضۂ رسول کی حفاظت پوری امت مسلمہ کا مشترکہ فریضہ ہے، نہ کہ کسی فرقے کا مسئلہ۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
علما کا حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اتحاد کا مطالبہ

اسلام آباد: ملک بھر سے آئے ہوئے علمائے کرام اور مشائخ نے منگل کے روز حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کے لیے اجتماعی اور غیر متزلزل عزم کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیت اللہ اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ایمان کا معاملہ ہے اور یہ پوری امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے، نہ کہ کسی فرقے کا مسئلہ۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق یہ مطالبہ وفاقی دارالحکومت میں علماء و مشائخ کے ایک اجتماع میں سامنے آیا۔ علماء نے اس بات پر زور دیا کہ امت مسلمہ کا اتحاد ناگزیر ہے اور حرمین شریفین کے تحفظ کو کسی ایک فرقے یا گروہ کا معاملہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

اے پی پی نے بتایا کہ اجتماع میں پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور دیگر مذہبی رہنما شامل تھے۔ سرکاری خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ کے دستیاب حصے میں انفرادی شرکاء کے نام نہیں بتائے۔ عرب نیوز نے بھی اسی نوعیت کی رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ پاکستانی علماء نے حرمین شریفین کے تحفظ اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے اجتماعی عزم کا مطالبہ کیا۔

بزنس ریکارڈر نے ایک متعلقہ رپورٹ میں کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی امن اور سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔ دستیاب متن میں اس بیان کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

یہ اعلامیہ اسلام کے مقدس ترین مقامات کے تحفظ کے بارے میں مذہبی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اتحاد کے مسلسل مطالبات کے بعد سامنے آیا ہے۔ حرمین شریفین سے مراد مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ہے، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ علماء نے کہا کہ ان مقدس مقامات کی حفاظت تمام مسلمانوں کا اجتماعی فریضہ ہے جو قومی اور فرقہ وارانہ سرحدوں سے بالاتر ہے۔ اجتماع کے شرکاء نے امت مسلمہ پر زور دیا کہ وہ مقدس مقامات کی حفاظت میں متحد رہے اور فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم سے گریز کرے۔

اجتماع کے منتظمین یا شرکاء کی تعداد کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔