ایس ای سی پی نے 39,704 کمپنیاں گوشوارے جمع نہ کرانے پر غیر فعال قرار دے دیں
ریگولیٹر کے مطابق یہ کمپنیاں بقایا دستاویزات جمع کرانے تک نئے بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکیں گی، جن میں گلگت کی 1,102 کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے 39,704 کمپنیوں کو غیر فعال قرار دیا ہے کیونکہ انہوں نے چار سال تک سالانہ گوشوارے، مالی بیانات یا دونوں جمع نہیں کرائے۔ کمیشن نے یہ اعلان ہفتے کے روز ایک بیان میں کیا۔
ان کمپنیوں کو ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں ''رجسٹرار کی جانب سے غیر فعال'' کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ درجہ بینکوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نظر آئے گا۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی بقایا دستاویزات جمع کرانے اور فعال درجہ بحال کرنے تک نئے بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکیں گی۔ اس عرصے میں وہ مالی خدمات بھی حاصل نہیں کر سکیں گی اور اپنے ڈائریکٹرز کی تبدیلی بھی رجسٹر نہیں کروا سکیں گی۔ پروپاکستانی نے خبر دی کہ غیر فعال کمپنیوں کے موجودہ بینک اکاؤنٹس بھی مطلوبہ دستاویزات جمع ہونے تک منجمد رہیں گے۔ بزنس ریکارڈر کے حوالے سے جاری بیان میں موجودہ اکاؤنٹس منجمد ہونے کا ذکر نہیں تھا۔
فہرست میں سب سے زیادہ کمپنیاں لاہور کی ہیں، جن کی تعداد 13,927 ہے، جبکہ اسلام آباد 13,859 کمپنیوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ کراچی میں 4,868، پشاور میں 2,031، ملتان میں 1,861، فیصل آباد میں 1,384، گلگت میں 1,102، کوئٹہ میں 436 اور سکھر میں 236 کمپنیاں غیر فعال قرار دی گئی ہیں۔
کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت سالانہ گوشوارے اور جہاں ضروری ہوں مالی بیانات جمع کرانا قانونی ذمہ داری ہے۔ ایس ای سی پی نے کہا کہ طویل عرصے تک فائلنگ نہ کرنا کارپوریٹ رجسٹر کو کمزور کرتا ہے اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ریگولیٹر کے مطابق رجسٹر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ستمبر 2026 کے آخر میں پاکستان میں 317,002 کمپنیاں رجسٹرڈ تھیں۔ ایس ای سی پی نے گزشتہ مالی سال میں 43,559 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں، جو اس سے پچھلے سال سے 24 فیصد زیادہ ہیں۔ کمیشن کے مطابق نام کی بکنگ اور کمپنی کی تشکیل اب مکمل طور پر ڈیجیٹل ہے اور 99.9 فیصد نئی کمپنیاں آن لائن رجسٹر ہو رہی ہیں۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کا بیان میں یہ کہنا تھا کہ ''صاف اور قابل اعتماد رجسٹری کارپوریٹ شعبے میں اعتماد کی بنیاد ہے۔'' پروپاکستانی نے ان کے حوالے سے لکھا کہ شفاف اور قابل بھروسا کارپوریٹ رجسٹر کاروباری اعتماد کی بنیاد ہے۔
ایس ای سی پی نے کہا کہ کمپنیاں تمام بقایا دستاویزات جمع کرا کر دوبارہ فعال درجہ حاصل کر سکتی ہیں۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

فخر زمان کی سنچری، 4 ہزار ایک روزہ رنز کا سنگ میل بھی عبور
پاکستان کے بلے باز نے یہ سنگ میل اپنے 97ویں ایک روزہ میچ میں عبور کیا اور 4 ہزار ایک روزہ رنز بنانے والے ملک کے 16ویں بلے باز بن گئے۔