ایس ای سی پی نے انشورنس ٹربیونلز اور ڈیجیٹل شکایتی نظام بڑھانے کی تجویز دے دی
2025 میں انشورنس سے متعلق 37,029 شکایات سامنے آنے کے بعد کمیشن نے شکایات کے حل کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سفارشات پیش کیں

اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے منگل کو ملک بھر میں انشورنس ٹربیونلز اور چھوٹے تنازعات کے حل کی کمیٹیوں کی تعداد بڑھانے اور پالیسی ہولڈرز کی شکایات کے بہتر حل کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل شکایتی نظام قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے یہ اطلاع دی۔
پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق سفارشات ایس ای سی پی کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئیں جس میں 2025 کے دوران مختلف فورمز پر 37,029 انشورنس سے متعلق شکایات موصول ہونے کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ شکایات کی یہ تعداد موجودہ شکایتی حل کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔
ایس ای سی پی نے جغرافیائی ضروریات کے مطابق انشورنس ٹربیونلز کی تعداد بڑھانے کی تجویز دی ہے تاکہ دعویداروں کو طویل فاصلہ طے نہ کرنا پڑے۔ کمیشن نے سیشن عدالتوں کی فہرست شائع کرنے کی بھی سفارش کی ہے جنہیں انشورنس ٹربیونلز کے طور پر نامزد کیا گیا ہے تاکہ پالیسی ہولڈرز آسانی سے صحیح فورم کی شناخت کر سکیں۔ وزارت قانون و انصاف سے کہا گیا ہے کہ وہ انشورنس ٹربیونلز کے اراکین کی بروقت تقرری کو یقینی بنائے۔
کمیشن نے چھوٹے انشورنس تنازعات کے حل کے لیے قائم کمیٹیوں کے دائرہ کار اور جغرافیائی رسائی کو وسعت دینے کی بھی سفارش کی ہے۔ ڈیجیٹل اقدامات کے تحت پالیسی ہولڈرز کو آن لائن شکایات اور معاون دستاویزات جمع کرانے کی اجازت دینے کی تجویز ہے، اور شکایات کے انتظام اور حل کے وقت کو کم کرنے کے لیے ایک مربوط ڈیجیٹل نظام قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ایس ای سی پی نے سرکاری انشورنس کمپنیوں سے متعلق شکایات کو وفاقی انشورنس محتسب کو بھیجنے کے قابل بنانے کے لیے قانونی اقدامات کی سفارش کی ہے، جس سے محتسب کی نگرانی کا دائرہ سرکاری بیمہ کنندگان تک وسیع ہو جائے گا۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ کمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے شکایات کے حل کا وقت کم کرنا اور انشورنس کمپنیوں کے اندر جوابدہی بہتر بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ پالیسی ہولڈرز اپنی شکایات کے حل کے لیے مناسب فورم تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں، چاہے وہ ٹربیونلز ہوں، کمیٹیاں ہوں یا ڈیجیٹل ذرائع۔
ان سفارشات پر عملدرآمد کے لیے وزارت قانون و انصاف اور عدالتوں کے ساتھ ہم آہنگی درکار ہوگی۔ رپورٹ میں تبدیلیوں کے نفاذ کے لیے کوئی مخصوص ٹائم لائن نہیں دی گئی۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔