مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

سینیٹ کمیٹی نے جاز اوور چارجنگ کی تحقیقات کا حکم دیا

سینیٹر افنان اللہ خان کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی الزامات کی جانچ کرے گی کہ جاز نے پی ٹی اے سے منظور شدہ نرخوں سے 5.83 ارب روپے زائد وصول کیے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
سینیٹ کمیٹی نے جاز اوور چارجنگ کی تحقیقات کا حکم دیا

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان الزامات کی تحقیقات کرے گی کہ جاز نے صارفین سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے منظور شدہ نرخوں سے 5.83 ارب روپے زائد وصول کیے۔ ڈان نے جمعرات کو یہ خبر دی۔

رپورٹ کے مطابق ذیلی کمیٹی کی سربراہی سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کریں گے۔ اس کمیٹی کا کام جاز کی جانب سے زائد وصولی کے الزامات اور پی ٹی اے کے ریگولیٹری اقدام کا جائزہ لینا ہے۔

یہ فیصلہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران پی ٹی اے حکام اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے نمائندوں کے درمیان گرما گرم بحث کے بعد سامنے آیا۔ ڈان نے اس تبادلے یا پیش کیے گئے شواہد کی مزید تفصیلات نہیں دیں۔

الزامات کا تعلق ان رقوم سے ہے جو صارفین سے پی ٹی اے سے منظور شدہ ٹیرف سے زیادہ وصول کی گئیں۔ پی ٹی اے ملک میں ٹیلی کام سیکٹر کا ریگولیٹر ہے اور آواز، ڈیٹا اور دیگر خدمات کے لیے نرخ طے کرتا ہے۔ ڈان کی رپورٹ میں جاز یا پی ٹی اے کی جانب سے الزامات پر کوئی جواب شامل نہیں تھا۔

ذیلی کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ صارفین سے وصول کی گئی رقوم پی ٹی اے سے منظور شدہ نرخوں کے مطابق تھیں یا نہیں اور کیا ریگولیٹر نے مبینہ زائد وصولی سامنے آنے پر مناسب کارروائی کی تھی۔

کمیٹی نے ذیلی کمیٹی کی تحقیقات کے لیے ابھی کوئی ٹائم لائن مقرر نہیں کی۔ ذیلی کمیٹی سے توقع ہے کہ وہ اپنی رپورٹ مرکزی کمیٹی کو پیش کرے گی۔

سینیٹ کمیٹی کا یہ اقدام موبائل نیٹ ورک بلنگ کے حوالے سے صارفین کی شکایات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ تاہم ڈان کی رپورٹ میں ان شکایات یا جاز کے خلاف کسی سابقہ ریگولیٹری کارروائی کے بارے میں اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

کمیٹی یا پی ٹی اے کی جانب سے مزید تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔