سینیٹ کمیٹی کا ملاحوں کے ورثاء کے معاوضے میں تاخیر پر سوال
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنٹ لینڈ کی کارروائی میں تین پاکستانی ملاح جاں بحق ہوئے جس کے بارے میں اسلام آباد سے مشورہ نہیں کیا گیا، اور فی شخص 60 ہزار ڈالر کے معاوضے میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے منگل کو صومالیہ کے ساحل کے قریب یرغمال بنائے گئے پاکستانی ملاحوں کے ورثاء کو معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کی کارروائی میں تین پاکستانی ملاح جاں بحق ہوئے، اور اس کارروائی کے بارے میں اسلام آباد سے نہ مشورہ کیا گیا نہ منظوری مانگی گئی۔
سینیٹر سمینہ ممتاز زہری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ارکان نے عملے کی رہائی میں تاخیر، ایک جاں بحق ملاح کی میت کی واپسی اور معاوضے پر افسران سے وضاحت طلب کی۔ ڈان کے مطابق کمیٹی نے ان معاملات پر تشویش کا اظہار کیا۔ منٹ مرر کی رپورٹ کے مطابق ارکان نے مذاکرات کے طویل ہونے، سفارتی اقدامات کے وقت اور صومالیہ کے سفیر کو پہلے طلب نہ کرنے پر سوال اٹھائے اور ہلاکتوں اور واپسی کے اعداد و شمار میں تضاد کی وضاحت مانگی۔
کمیٹی کو پیش کی گئی حکومتی رپورٹ کے مطابق آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے قریب اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز پر 18,500 بیرل تیل اور 17 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی، چار انڈونیشیائی اور سری لنکا، بھارت اور میانمار کے ایک ایک ملاح شامل تھے۔ جہاز پلاؤ میں رجسٹرڈ تھا اور اس کا کپتان انڈونیشیائی تھا۔
رپورٹ کے مطابق یرغمال بنانے والوں نے عملے کی رہائی کے لیے تقریباً تین ملین ڈالر کا مطالبہ کیا اور جہاز کے مالک نے تین مرتبہ مذاکرات کیے۔ پاکستان نے ڈکیتی کی مالی معاونت کے خلاف اپنی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے ادائیگی سے انکار کیا اور اس کے بجائے سفارتی رابطوں، مقامی قبائلی مذاکرات اور انشورنس انتظامات پر کام کیا۔ وزارت بحری امور نے 24 اپریل کو سفارتی مدد طلب کی، جبکہ جبوتی میں پاکستان کے سفارت خانے اور اعلیٰ حکام نے صومالی نمائندوں اور جہاز کے مالک سے رابطے کیے۔
3 جولائی تک عملہ 73 دن یرغمال رہا۔ بعد کے اجلاسوں میں معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھانے کی سفارش کی گئی، جن میں سینئر صومالی حکام اور بین الاقوامی بحری تنظیم سے رابطے شامل تھے۔ پنٹ لینڈ کی علاقائی بحری پولیس نے بحری اور زمینی دستوں کی مدد سے 29 ستمبر کو جہاز کی بازیابی کا اعلان کیا۔ رپورٹ کے مطابق پانچ افراد جاں بحق ہوئے جن میں تین پاکستانی تھے۔ جبوتی میں پاکستانی مشن نے بچ جانے والے ملاحوں، زخمیوں اور جاں بحق افراد کی واپسی کا انتظام کیا۔
معاوضے کے حوالے سے افسران نے بتایا کہ جہاز کے مالک نے معاہدے کے تحت فی شخص 60 ہزار ڈالر کے معاوضے کی ذمہ داری قبول کی ہے، تاہم میننگ ایجنسی اور انشورنس نمائندوں سے بات چیت کے باعث ادائیگی میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔
کمیٹی ارکان نے وزیراعظم کی جانب سے 12 لاکھ 50 ہزار روپے کی امداد کے اعلان کی تصدیق کا مطالبہ کیا اور طبی اخراجات، غیر ادا شدہ تنخواہوں اور بچ جانے والوں کی معاونت کی تفصیلات طلب کیں۔ کمیٹی نے افسران کو ہدایت کی کہ 10 پاکستانی ملاحوں کی اپریل تا ستمبر تنخواہوں کے ریکارڈ کے ساتھ معاوضے اور طبی ادائیگیوں کی تفصیلات پیش کی جائیں، کراچی میں ورثاء کے احتجاج کے متضاد بیانات کی وضاحت دی جائے اور خاندانوں کے ساتھ عزت سے سلوک کو یقینی بنایا جائے۔ اگلے اجلاس میں تفصیلی فالو اپ رپورٹ طلب کی گئی۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔