سندھ اور کوئٹہ کے شہریوں نے نئے صوبوں کو واحد حل قرار دیا
ایکسپریس نیوز کی رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے صوبوں کا اپنا وزیراعلیٰ اور آئی جی ہونے سے انتظامی نگرانی مؤثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹس کے مطابق سندھ اور کوئٹہ کے شہریوں نے نئے صوبوں کے قیام کو انتظامی مسائل اور کرپشن کا واحد حل قرار دیا ہے۔
سندھ سے نشر ہونے والی رپورٹ میں شہریوں کا کہنا تھا کہ چھوٹے صوبے حکومت کو عوام کے قریب لائیں گے اور مقامی شکایات کا ازالہ آسان ہوگا۔ کوئٹہ سے شائع ہونے والی علیحدہ رپورٹ میں بھی شہریوں نے نئے صوبوں کو اپنے مسائل اور کرپشن کا واحد حل بتایا۔
کوئٹہ رپورٹ کے اسٹینڈ فرسٹ میں کہا گیا کہ ہر چھوٹے صوبے کا اپنا وزیراعلیٰ اور انسپکٹر جنرل آف پولیس ہوگا، جس سے انتظامی نگرانی زیادہ مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔ شہریوں کا مؤقف تھا کہ ایک ہی صوبائی انتظامیہ بڑی آبادی اور وسیع رقبے پر مقامی شکایات کا ازالہ نہیں کر سکتی اور وسائل کی تقسیم میں انصاف نہیں ہو رہا۔
ایکسپریس نیوز نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے افراد سے بات کی گئی یا زیر بحث مجوزہ صوبے کون سے ہیں۔ سکردو ٹائمز کو دستیاب رپورٹس میں کسی سرکاری اہلکار یا سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا گیا اور نہ ہی وفاقی یا صوبائی حکومت کا کوئی ردعمل شامل کیا گیا، جس سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ رائے کسی منظم سروے کا نتیجہ ہے یا چند افراد کے ذاتی خیالات ہیں۔
دونوں رپورٹس سرکاری مؤقف کے بجائے سڑکوں پر لوگوں کے ردعمل کو پیش کرتی ہیں۔ سندھ والی رپورٹ اردو پوائنٹ اور کوئٹہ والی ایکسپریس ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ رپورٹس میں مجوزہ صوبوں کی حدود یا قیام کی کوئی ٹائم لائن شامل نہیں کی گئی۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کے کئی علاقوں میں چھوٹے صوبوں کا مطالبہ اٹھتا رہا ہے لیکن ان رپورٹس میں کسی آئینی تجویز کا ذکر نہیں کیا گیا۔ سکردو ٹائمز شہریوں کے بیانات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔