سکردو میں چار افراد کا قتل، پولیس کو غیرت کے نام پر قتل کا شبہ
پولیس کے مطابق محمد اسلم، ان کی اہلیہ ہانیہ اسلم اور دو بچوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا جبکہ ایف آئی آر میں ہانیہ کے والد، بھائیوں اور ماموں کو نامزد کیا گیا ہے۔

سکردو میں 29 اکتوبر کی رات ایک ہی گھر کے چار افراد کو قتل کر دیا گیا اور سکردو پولیس کو شبہ ہے کہ یہ مبینہ غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ ہے۔ پولیس کے مطابق محمد اسلم، ان کی اہلیہ ہانیہ اسلم، چار سالہ بیٹے مہدی اور دو سالہ بیٹی زہرا کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان جاتے ہوئے کمرے میں رکھی ایک ڈش پر مقتولوں کے خون سے کچھ الفاظ بھی لکھ گئے۔
سکردو پولیس کے ڈی ایس پی صلاح الدین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ واقعہ گلگت بلتستان کی تاریخ کے ہولناک ترین واقعات میں سے ایک ہے اور خطے میں طویل عرصے کی پولیس سروس کے دوران انھوں نے اتنی بے رحمی سے کمسن بچوں کا قتل نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق چاروں افراد کی موت گلے پر تیز دھار آلے کے وار سے ہوئی جبکہ اسلم اور ان کی اہلیہ کے جسموں پر زخموں کے نشانات بھی موجود ہیں۔
مقدمہ محمد اسلم کے بھائی خادم حسین کی درخواست پر ہانیہ کے بھائیوں، والد اور ماموں کے خلاف متعدد دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں خادم حسین نے بتایا کہ ان کے بھائی نے پانچ چھ برس قبل ہانیہ سے کورٹ میرج کی تھی اور وہ ایک پیزا شاپ پر ملازمت کرتے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ کورٹ میرج کی وجہ سے ہانیہ کے رشتہ داروں کی جانب سے ماضی میں بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی رہیں اور ہانیہ کے گھر والوں نے پہلے بھی کراچی میں اسلم کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔
ڈی ایس پی صلاح الدین کے مطابق شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ قاتل اسلم کی واپسی سے قبل گھر میں داخل ہوئے، پہلے ہانیہ اور دونوں بچوں کو قتل کیا اور پھر اسلم کا انتظار کیا۔ ان کے مطابق اسلم پر گھر میں داخل ہوتے ہی حملہ کیا گیا اور زخمی حالت میں انھیں گھسیٹ کر اسی کمرے میں لایا گیا جہاں ان کی اہلیہ اور بچے پڑے تھے، کیونکہ پورچ سے کمرے تک خون کی لکیر موجود تھی۔ انھوں نے بتایا کہ ملزمان کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے علاقے پاڑاچنار اور کراچی میں ہیں اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اسلم کے قریبی کزن اور پڑوسی اختر علی خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے 29 اکتوبر کی شام ہانیہ سے ملاقات کی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ جمعہ کی صبح بیمار زہرا کو ہسپتال لے کر جائیں گے۔ ان کے مطابق صبح آٹھ بجے کے قریب فون کیا تو کوئی جواب نہیں آیا، پھر وہ دو سو میٹر کے فاصلے پر واقع گھر پہنچے تو مرکزی گیٹ کھلا ہوا تھا اور کار پورچ میں خون پڑا تھا جس کی ایک لکیر کمروں کی طرف جا رہی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اسلم فرش پر مردہ پڑے تھے، ہانیہ بستر پر اور دونوں بچے اپنے بستروں میں مردہ حالت میں تھے، جس کے بعد انھوں نے ریسکو، پولیس اور اسلم کے بھائیوں کو اطلاع دی۔
سکردو میں پریکٹس کرنے والے وکیل اور اسلم کے بچپن کے دوست محمد اقبال نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اسلم کراچی میں کورٹ میرج کے بعد ہانیہ کو سکردو لے آیا تھا اور انھیں کئی مرتبہ کہا تھا کہ وہ کراچی نہیں جا سکتا کیونکہ وہاں انھیں خطرہ ہے۔ ان کے مطابق اس وقت ہانیہ کے والدین نے اسلم کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا، تاہم ہانیہ نے سکردو کی عدالت میں پیش ہو کر بیان دیا تھا کہ انھوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ واقعے کے بعد سکردو میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔
ویڈیو
امیر مقام کا گلگت بلتستان کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد، ترقی اور سیاحت پر توجہ کا عزم
وفاقی وزیر برائے کشمیر امور و گلگت بلتستان نے خطے کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد دی اور ترقی و سیاحت پر توجہ جاری رکھنے کا کہا۔

گلگت بلتستان کا 80 واں یومِ آزادی اتوار کو، مرکزی تقریب گلگت میں
ریڈیو پاکستان کے مطابق مرکزی تقریب گلگت کے آرمی ہیلی پیڈ پر ہوگی، جس میں 1947 کی تحریکِ آزادی کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

ڈیم منصوبوں کی لاگت میں 1.9 ٹریلین روپے کا اضافہ، اسمبلی کو بتایا گیا
وزارت آبی وسائل نے اضافے کی وجہ زر مبادلہ کی شرح میں تبدیلی کو قرار دیا اور کہا کہ نظرثانی شدہ پی سی ون جمع کر دیا گیا ہے، جبکہ سیمنٹ، ڈیزل اور سٹیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
بھارت نے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات پر پاکستان سے احتجاج درج کر لیا
بھارتی سرکاری نشریاتی ادارے ڈی ڈی نیوز کے مطابق احتجاج کی تاریخ، مقام اور سطح نہیں بتائی گئی، اور اسلام آباد کا کوئی ردعمل بھی سامنے نہیں آیا۔