مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

سمیڈا نے ملک بھر کی ویمن چیمبرز سے رابطے بڑھا دیے

اتھارٹی کے مطابق یہ اقدام خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے اور چھوٹے کاروباروں کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاہم تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
سمیڈا نے ملک بھر کی ویمن چیمبرز سے رابطے بڑھا دیے

اسلام آباد: سمیدا (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی کی اتھارٹی) نے پاکستان بھر کی ویمن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ اپنی مصروفیت بڑھا دی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق اتھارٹی نے یہ اقدام خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے، چھوٹے کاروباروں کو مضبوط کرنے اور کاروباری معاونت کی خدمات تک رسائی بہتر بنانے کی جاری کوششوں کے حصے کے طور پر کیا ہے۔

اے پی پی کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ مصروفیت کوئی نیا منصوبہ ہے یا موجودہ کام کی توسیع، اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ ویمن چیمبرز کا انتخاب کیسے کیا گیا۔

جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ میں شامل چیمبرز کی نشاندہی نہیں کی گئی، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ مصروفیت کیسے کی جائے گی یا یہ کب شروع ہوئی۔ رپورٹ میں ان خواتین کاروباری افراد کی تعداد بھی نہیں دی گئی جنہیں اتھارٹی اس وقت مدد فراہم کر رہی ہے، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ کتنی ویمن چیمبرز کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے یا متوقع مستفیدین کی تعداد کیا ہے۔

اعلامیے میں بجٹ مختص کرنے، عملے میں تبدیلی یا کسی مخصوص تربیتی اور قرضے کے پروگرام کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ اے پی پی کی رپورٹ میں سمیدا کے حکام یا ویمن چیمبرز کے نمائندوں کے کوئی بیانات شامل نہیں تھے۔

ویمن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملک کے کئی شہروں میں خواتین کی ملکیت والے کاروباروں اور پیشہ ور خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کی اراکین کو اکثر مالی وسائل، کاروباری ترقیاتی خدمات اور منڈیوں تک محدود رسائی جیسی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے، تاہم اے پی پی کی رپورٹ میں ان نکات پر کوئی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گئے۔

سکردو ٹائمز نے مزید تفصیلات کے لیے سمیدا سے رابطہ کیا لیکن فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ چونکہ اس خبر کا واحد ذریعہ اے پی پی کی رپورٹ ہے، اس لیے اضافی معلومات کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

یہ اقدام چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی مدد کے لیے حکومتی کوششوں کے تسلسل میں سامنے آیا ہے، تاہم اے پی پی نے اس اعلان کو کسی مخصوص پالیسی یا پروگرام سے منسلک نہیں کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ مصروفیت چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا احاطہ کرے گی یا صرف منتخب شہروں تک محدود ہوگی۔ رپورٹ میں کسی شراکت دار ادارے یا ترقیاتی ایجنسی کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس اقدام کے لیے کوئی رابطے کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔ قارئین کو اس اعلان کو ابتدائی سمجھنا چاہیے جب تک سمیدا مزید تفصیلی بیان جاری نہیں کرتا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔