مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

اسپیکر قومی اسمبلی کا دوسری وزارتوں کے سوالات کے جوابات دینے پر پابندی کا حکم

سردار ایاز صادق نے سوالیہ دور کے دوران کہا کہ متعلقہ وزارت کے پارلیمانی سیکرٹری، وزیر مملکت یا وفاقی وزیر کی عدم موجودگی میں صرف اسی وزارت کا سیکرٹری جواب دے سکے گا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
اسپیکر قومی اسمبلی کا دوسری وزارتوں کے سوالات کے جوابات دینے پر پابندی کا حکم

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمانی سیکرٹریز کو اپنی وزارت کے علاوہ دیگر وزارتوں سے متعلق سوالات کے جوابات دینے سے روک دیا ہے۔ ان کا حکم ہے کہ متعلقہ وزارت کے پارلیمانی سیکرٹری، وزیر مملکت یا وفاقی وزیر کی عدم موجودگی میں صرف اسی وزارت سے منسلک رکن جواب دے سکتا ہے۔

یہ حکم انہوں نے پیر کے روز سوالیہ دور کے دوران دیا، ایسا ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ میں بتایا گیا۔ سوالیہ دور اجلاس کے آغاز کا وہ حصہ ہوتا ہے جب اراکین ایوان میں حکومت سے سوالات پوچھتے ہیں اور متعلقہ وزرا یا ان کے نائبین جواب دیتے ہیں۔

اے پی پی کے مطابق اسپیکر نے کہا کہ متعلقہ وزارت کا پارلیمانی سیکرٹری ہی اس وزارت کے معاملات پر سوالات کے جواب کا ذمہ دار ہے کیونکہ اس رکن کو وزارت کے امور کی بریفنگ دی جاتی ہے۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ حکم کسی مخصوص واقعے کے بعد دیا گیا یا کسی پارلیمانی سیکرٹری نے اپنی وزارت کے علاوہ کسی اور وزارت کی جانب سے جواب دینے کی کوشش کی تھی۔

پارلیمانی سیکرٹریز قومی اسمبلی کے وہ اراکین ہوتے ہیں جو وفاقی وزرا کی ایوان میں ذمہ داریوں میں معاونت کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں۔ ایوان کے قواعدِ ضابطہ کے تحت عام طور پر سوالات کے جواب متعلقہ وزیر دیتے ہیں اور وزیر کی غیر موجودگی میں پارلیمانی سیکرٹری جواب دیتا ہے۔

اسپیکر کی ہدایت نے اس انتظام کو محدود کر دیا ہے: کوئی پارلیمانی سیکرٹری کسی ساتھی کی وزارت کی جانب سے جواب نہیں دے سکتا، اور جہاں متعلقہ وزیر، وزیر مملکت یا اس وزارت کا اپنا پارلیمانی سیکرٹری موجود نہ ہو، وہاں کسی دوسرے سیکرٹری سے جواب نہیں لیا جائے گا۔

پیر کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا جب کرسی سے یہ حکم دیا گیا۔ اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اس پر کسی رکن نے اعتراض نہیں کیا، اور یہ واضح نہیں کہ یہ تبدیلی ایوان کے قواعد میں شامل کی جائے گی یا کرسی کی مستقل ہدایت کے طور پر لاگو رہے گی۔

ایوان میں کرسی سے دیے گئے اسپیکر کے احکامات کارروائی کے لیے لازم ہوتے ہیں۔ اے پی پی کی رپورٹ میں اس حکم کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔