اسٹیٹ بینک نے ترسیلات پر 16 ارب روپے کے انعامات کا اعلان
پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی اور ہر سہ ماہی میں 4 ارب روپے کے انعامات دیے جائیں گے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاسبان ریمی ٹنس ریوارڈ اسکیم شروع کی ہے جس کے تحت سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات دیے جائیں گے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق اس اسکیم میں متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک سے بھیجی جانے والی ترسیلات کے لیے انعامات کا 50 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔
اس اسکیم میں وہ افراد شامل ہو سکتے ہیں جن کے بینک اکاؤنٹ میں مسلسل تین ماہ تک ہر ماہ کم از کم 100 امریکی ڈالر یا اس کے مساوی رقم بیرون ملک سے ترسیلات کی صورت میں موصول ہو۔ ہر اہل مہینے میں موصول ہونے والی ہر 100 ڈالر کی رقم پر ایک ڈیجیٹل انٹری ملے گی۔ اگر کسی شخص کو پہلے مہینے 100 ڈالر، دوسرے مہینے 200 ڈالر اور تیسرے مہینے 300 ڈالر ملیں تو اسے مجموعی طور پر 6 انٹریاں ملیں گی۔ اسکیم میں شامل ہونے کے لیے کوئی فیس نہیں ہے اور بینک ٹکٹ خریدنے، اضافی رقم جمع کرانے یا کم از کم بیلنس رکھنے کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔
قرعہ اندازی ہر سہ ماہی میں ہوگی اور ہر بار 2,521 نقد انعامات دیے جائیں گے جن کی مالیت 4 ارب روپے ہوگی۔ انعامات میں ایک پہلا انعام 10 کروڑ روپے، 20 دوسرے انعامات ڈھائی کروڑ روپے فی کس، 100 تیسرے انعامات ایک کروڑ روپے فی کس اور 2,400 چوتھے انعامات ایک لاکھ روپے فی کس شامل ہیں۔ اس طرح ایک سال میں 10 ہزار سے زائد افراد کو مجموعی طور پر 16 ارب روپے ملیں گے۔
انعامات کی تقسیم خطوں کے حساب سے ہوگی: خلیجی ممالک بشمول متحدہ عرب امارات 50 فیصد، برطانیہ 15 فیصد، یورپ 15 فیصد، شمالی امریکا 10 فیصد اور دیگر ممالک 10 فیصد۔ البتہ 10 کروڑ روپے کا پہلا انعام تمام خطوں سے بھیجنے والے اہل افراد کے لیے دستیاب ہوگا۔
پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی جس میں یکم اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک موصول ہونے والی اہل ترسیلات شامل ہوں گی۔ قرعہ اندازی ڈیجیٹل، محفوظ اور قابل جانچ عمل کے ذریعے ہوگی اور نتائج اسکیم کی ویب سائٹ، شریک بینکوں، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی ویب سائٹس اور سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کیے جائیں گے۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ ترسیلات زر پاکستان کے لاکھوں خاندانوں کے لیے اہم سہارا ہیں اور ان سے گھریلو اخراجات، تعلیم، صحت، سرمایہ کاری اور دیگر معاشی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق یہ اسکیم مکمل طور پر پاکستان کے بینکنگ شعبے کی جانب سے فراہم کی جائے گی اور قومی خزانے یا حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ اس کا مقصد بیرون ملک پاکستانیوں کو غیر رسمی ذرائع کے بجائے بینکوں اور باقاعدہ مالیاتی ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔