مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کار اکاؤنٹس ایک سال میں 48 فیصد بڑھ گئے

ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں 190,277 نئے اکاؤنٹس کھلے، جنوری سے جون کے دوران نئے اکاؤنٹس میں سے 45 فیصد 18 سے 30 سال کی عمر کے افراد نے کھولے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کار اکاؤنٹس ایک سال میں 48 فیصد بڑھ گئے

پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اکاؤنٹس کی تعداد مالی سال 2025-26 میں 48 فیصد بڑھ کر 392,775 سے 583,052 ہو گئی۔ یہ اعداد و شمار سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ہیں، جنہیں انڈیپنڈنٹ اردو نے اپنی رپورٹ میں نقل کیا ہے۔

اس دوران تقریباً 190,277 نئے سرمایہ کاروں نے اکاؤنٹس کھولے۔ جنوری سے جون 2026 کے دوران نئے اکاؤنٹس میں سے 45 فیصد 18 سے 30 سال کی عمر کے افراد کے تھے، اور رپورٹ سے پہلے گزرنے والے ایک ماہ میں 25 ہزار سے زیادہ اکاؤنٹس کھلے، جن میں تقریباً 53 فیصد نوجوانوں کے تھے۔

انڈیپنڈنٹ اردو نے یہ اعداد و شمار ایک رائے پر مبنی تحریر میں شائع کیے اور لکھا کہ مارکیٹ اب ان لوگوں کے لیے بھی کھلی ہے جو چند سال پہلے اپنی بچت بینک اکاؤنٹ یا نقدی کی صورت میں رکھتے تھے۔ تحریر میں بہاولپور کے احمد علی کا ذکر ہے، جنہوں نے ایک سال نوکری نہ ملنے کے بعد چھ ماہ قبل سات ہزار روپے سے پہلا اکاؤنٹ کھولا۔ فاطمہ رحمان نے بتایا کہ وہ تین ماہ قبل کرپٹو ٹریڈنگ چھوڑ کر سٹاک ایکسچینج کی طرف آئیں۔ پشاور کے بلال خان نے کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا ویڈیوز دیکھ کر اپنے دس دوستوں کے ساتھ ایک سال قبل دس اکاؤنٹس کھولے تھے، زیادہ تر کی رقم ضائع ہوئی اور اب وہ مارکیٹ سمجھنے کے لیے کلاسز لے رہے ہیں۔

مارکیٹ تک رسائی آسان بھی ہوئی ہے۔ مارچ 2026 میں ایس ای سی پی نے سہولت اکاؤنٹ کی سرمایہ کاری کی حد دس لاکھ روپے سے بڑھا کر تیس لاکھ روپے کی، اور اگست 2026 میں اکاؤنٹ کھولنے کا عمل آسان بنانے کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا۔

مارکیٹ کی کارکردگی دوسری بڑی وجہ ہے۔ مالی سال 2025-26 میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس روپے کے لحاظ سے تقریباً 44 فیصد بڑھا، جبکہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں منافع تقریباً 83 فیصد اور 2025 میں تقریباً 54 فیصد رہا۔

انڈیپنڈنٹ اردو نے دیگر سرمایہ کاری کے مواقع کم ہونے کا بھی ذکر کیا، جن میں گرتی ہوئی رئیل سٹیٹ، مستحکم ڈالر اور سونے کی گرتی قیمتیں، اور کرپٹو مارکیٹ کا کریش شامل ہیں۔ تحریر کے مطابق پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں ایک مخصوص حد سے نیچے قیمتیں گرنے پر ٹریڈنگ بند کر دی جاتی ہے، جس سے سرمایہ کار کو بہتر فیصلے کا وقت مل جاتا ہے۔

پس منظر میں نوجوانوں کی بے روزگاری ہے۔ رپورٹ میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائیزیشن کے 2026 کے جائزے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.8 فیصد اور بے روزگار نوجوانوں کی تعداد تقریباً 2.6 ملین ہے۔

ادھر ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ دبئی سے نکلنے والا سرمایہ کسی دوسرے ملک جانے کے بجائے پاکستان واپس آ رہا ہے، اور کمپنی ایکٹ میں 170 ترامیم کی جا رہی ہیں تاکہ کمپنی بنانا اور چلانا آسان ہو۔ یہ بات اردو پوائنٹ نے نقل کی ہے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔