مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

سپارکو 4 سے 10 اکتوبر تک ورلڈ اسپیس ویک 2026 منائے گا

ملک بھر میں تعلیمی، آگاہی اور عوامی شرکت کی سرگرمیاں 'راکٹ ریوولوشن' کے عالمی موضوع کے تحت ہوں گی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
سپارکو 4 سے 10 اکتوبر تک ورلڈ اسپیس ویک 2026 منائے گا

اسلام آباد: پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) 4 سے 10 اکتوبر تک ملک بھر میں ورلڈ اسپیس ویک 2026 منائے گا۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق اس دوران تعلیمی، آگاہی اور عوامی شرکت کی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔

اس سال عالمی اسپیس ویک کا موضوع 'راکٹ ریوولوشن' ہے۔ سپارکو کے مطابق یہ موضوع گزشتہ عشروں میں راکٹ ٹیکنالوجی کے ارتقا اور خلائی تحقیق کے مستقبل میں اس کے مرکزی کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام پورے ملک میں ہوگا، تاہم کن شہروں میں تقریبات ہوں گی، ان کا شیڈول کیا ہوگا اور عوام کس طرح حصہ لے سکیں گے اس بارے میں ابھی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایجنسی کی جانب سے الگ سے شیڈول بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔

سپارکو پاکستان کی قومی خلائی ایجنسی ہے اور وہ ملکی سطح پر خلائی سائنس کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔ اس اعلان سے پاکستان کی عالمی اسپیس ویک میں شرکت کی باضابطہ تصدیق ہوئی ہے۔

مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں جاری ہونے کی توقع ہے، تاہم اب تک دستیاب معلومات کے مطابق پروگرام کے مقامات اور نظام الاوقات کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔