مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

سپریم کورٹ: صرف ڈی این اے رپورٹ پر زیادتی کی سزا کا سوال

جسٹس شہزاد احمد ملک کی سربراہی میں بینچ نے پوچھا کہ ٹرائل کے دوران گونگی بہری متاثرہ خاتون کا بیان سمجھنے کے لیے ماہر کیوں نہیں بلایا گیا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
سپریم کورٹ: صرف ڈی این اے رپورٹ پر زیادتی کی سزا کا سوال

سپریم کورٹ نے زیادتی کے ایک مقدمے میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا محض ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر ملزم کو سزا دی جا سکتی ہے، اور گونگی و بہری 25 سالہ خاتون کے اس کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے وکلاء سے مزید قانونی معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اگلی سماعت کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

جسٹس شہزاد احمد ملک کی سربراہی میں قائم بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ہائی کورٹ نے ڈی این اے رپورٹ پر انحصار کرتے ہوئے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، اور ہائی کورٹ کے فیصلے میں متاثرہ خاتون کو ذہنی معذور بھی لکھا گیا تھا۔

ملزم کے وکیل نے استدلال کیا کہ متاثرہ خاتون نے عدالت میں خود کوئی بیان نہیں دیا اور ٹرائل کورٹ نے والدہ کے بیان پر انحصار کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ دیا جس کے مطابق محض ڈی این اے میچ ہونے پر سزا نہیں سنائی جا سکتی۔

جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ جس فیصلے کا حوالہ دیا جا رہا ہے اس کے حقائق مختلف ہیں، اس کیس میں متاثرہ خاتون پر ماضی میں بھی ایسے الزامات لگانے کی ہسٹری موجود تھی، جبکہ یہاں متاثرہ قوتِ سماعت اور قوتِ گویائی دونوں سے محروم ہے۔

ملزم کے وکیل نے کہا کہ متاثرہ خاتون نے پانچویں ماہ میں والدہ کو پیٹ میں درد کی شکایت کی، طبی معائنے میں معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہے، اور بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کر گیا۔

جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق گونگے بہرے افراد کا بیان سمجھنے کے لیے ماہر کو بلایا جاتا ہے۔ جسٹس شہزاد احمد ملک نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں متاثرہ خاتون کی والدہ نے اس کی جانب سے بیان دیا تھا، اور ایسے بچوں کی زبان صرف ماہر ہی سمجھ سکتا ہے۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ متاثرہ خاتون معذور ہے اور اسے معلوم ہی نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ متاثرہ خاتون کے وکیل نے کہا کہ ملزم اس کا ہمسایہ ہے۔

جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ لوگوں میں خوفِ خدا ختم ہو گیا ہے۔ جسٹس شہزاد احمد ملک نے کہا کہ متاثرہ خاتون کی والدہ کے مطابق خاتون نے دو گواہوں کی موجودگی میں ملزم کی نشان دہی کی، اور اگر وہ ملزم کی نشان دہی کر سکتی ہے تو بادی النظر میں وہ ذہنی طور پر معذور نہیں۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ قانونِ شہادت کے مطابق ایسے مقدمات میں متاثرہ کا بیان اہم ہوتا ہے۔

عدالت نے تین نکات پر وکلاء سے مزید معاونت طلب کی: آیا صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر سزا دی جا سکتی ہے؛ آیا متاثرہ خاتون صرف گونگی اور بہری ہے یا ذہنی معذوری کا شکار بھی ہے؛ اور ٹرائل کے دوران اس کا بیان سمجھنے کے لیے ماہر کیوں نہیں بلایا گیا۔ اس کے بعد سماعت ملتوی کر دی گئی۔

صحتاسلام آباد

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن

ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

سیاستاسلام آباد

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع

جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

صحتاسلام آباد

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم

چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سیاستاسلام آباد

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم

30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔