مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

توش خانہ ریکارڈ جاری: وزیراعظم کے نام پر تین درجن سے زائد تحائف

کیبنٹ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دورے میں ملنے والا ایک ہزار گرام خالص سونا بھی توش خانہ میں جمع کروایا، جبکہ ایک اور شمار میں ان کے تحائف کی تعداد 34 بتائی گئی ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
توش خانہ ریکارڈ جاری: وزیراعظم کے نام پر تین درجن سے زائد تحائف

کیبنٹ ڈویژن نے جولائی تا ستمبر 2026 کے توش خانہ ریکارڈ کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جن کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اس سہ ماہی میں تین درجن سے زائد تحائف جمع کروائے، جن میں کرغزستان سے ملنے والا ایک ہزار گرام خالص سونے کا ڈبہ بھی شامل ہے۔

جیو نیوز کے مطابق یہ سونا 8 ستمبر کو توش خانہ میں جمع کروایا گیا، جو وزیراعظم کو 31 اگست سے 2 ستمبر تک کرغزستان کے سرکاری دورے کے دوران ملا تھا۔ کیبنٹ ڈویژن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو بیرونی دوروں میں ملنے والے تمام تحائف توش خانہ میں جمع کروائے گئے ہیں، جبکہ ان کی قیمت کا تعین ابھی جاری ہے۔

فہرست شائع کرنے والے دونوں ذرائع ابلاغ نے وزیراعظم کے تحائف کی تعداد مختلف بتائی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے تین درجن سے زائد تحائف جمع کروائے، جبکہ پروپاکستانی نے ان کے نام پر 34 اندراج بتائے ہیں، جن میں تین رولیکس اور ایک پیٹک فلپ گھڑی شامل ہے۔ جیو نیوز کی تفصیل میں ہاتھ سے بنی ریشمی قالین، شیلڈ، پلیٹ، ٹائی، کفلنکس کا سیٹ، خطاطی، روضہ رسولؐ کا ماڈل، دو اونی اور ریشمی قالین، ایک پینٹنگ، وال ہینگنگ، بیلاروس کی شیشے کی آرائشی چیز، لکڑی کی پلیٹ، بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کا ماڈل، سیرامک گلدان، دو اسکارف، زیتون کے تیل کی چار بوتلیں، صابن اور عود کی خوشبو، گاڑی کا ماڈل، کرغز طرز کا کمبل، رسمی گلدان، کتابیں، کرسٹل شیلڈ، کانسی کا گلدان، رومال، تسبیح کے دو سیٹ، چھ پیالیاں اور ایک ٹیبل کلاک شامل ہیں۔

جیو نیوز کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے سات تحائف جمع کروائے، جن میں دو قالین، تیر اندازی کا سیٹ، ایک موسیقی کا آلہ، فیصل مسجد کا فریم، شطرنج کا سیٹ اور ایک آرائشی چیز شامل ہے۔

پروپاکستانی کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق دار نے 25 تحائف جمع کروائے، جن میں تین رولیکس اور ایک پیٹک فلپ نوٹیلس گھڑی شامل ہے، جبکہ آئی ٹی منسٹر شزہ فاطمہ خواجہ نے آٹھ تحائف جمع کروائے، جن میں دو رولیکس لیڈی ڈیٹ جسٹ گھڑیاں، دو زیورات کے سیٹ اور کھجور اور عطر کے ڈبے شامل ہیں۔ پروپاکستانی نے بلاول بھٹو زرداری، سید نوید قمر اور رانا تنویر حسین کے نام پر بھی سات سات تحائف درج بتائے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر ریلوے حنیف عباسی اور اعلیٰ افسران نے بھی تحائف وصول کیے، جو توش خانہ میں جمع کروائے گئے۔

حکومت نے ستمبر میں توش خانہ (مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن) رولز 2026 جاری کیے۔ ان قواعد کے تحت توش خانہ میں موجود تمام تحائف کی کیبنٹ ڈویژن کھلی نیلامی کرے گا، جسے فیڈرل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن کی سربراہی میں کمیٹی کی منظوری حاصل ہوگی۔ وصول کنندہ کو تحفہ ملنے کے 30 دن کے اندر اسے گوشوارے میں ظاہر کرکے توش خانہ میں جمع کروانا ہوگا، بیرونی دورے کی صورت میں پاکستان واپسی کے 30 دن کے اندر، اور اگر تحفہ الگ سے بھیجنا پڑے تو 60 دن کے اندر۔

سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت کے علاوہ تمام عوامی عہدیداروں اور سرکاری وفود میں شامل نجی افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے یا اپنے اہل خانہ کے لیے مقامی یا غیر ملکی شخصیات اور کمپنیوں سے تحائف نہ لیں۔ جہاں سفارتی یا ثقافتی مجبوری کی بنا پر تحفہ لینا ناگزیر ہو، وہاں اسے قواعد کے مطابق توش خانہ میں جمع کروانا لازمی ہے۔ نیلامی کی رقم الگ اکاؤنٹ میں رکھی جائے گی اور ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں لڑکیوں کی پرائمری تعلیم کے فروغ پر خرچ کی جائے گی۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔