مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ترکی کی ایم آئی ٹی نے پاک افغان سرحد کے قریب داعش خراسان کا مبینہ کارندہ گرفتار کر لیا

منٹ مرر کے مطابق اوغور بہادر المعروف عبداللہ کو ترکی منتقل کیا گیا اور اس گرفتاری کو ایم آئی ٹی اور آئی ایس آئی کے انٹیلی جنس تعاون سے جوڑا گیا ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
ترکی کی ایم آئی ٹی نے پاک افغان سرحد کے قریب داعش خراسان کا مبینہ کارندہ گرفتار کر لیا

ترکی کی قومی انٹیلی جنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) نے افغانستان پاکستان سرحدی علاقے سے داعش خراسان کے ایک مبینہ اہم کارندے کو گرفتار کر کے ترکی منتقل کر دیا ہے۔ منٹ مرر نے جمعہ کو اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا اور اس کارروائی کو ایم آئی ٹی اور پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے درمیان تعاون سے جوڑا۔

اخبار کے مطابق گرفتار شخص کا نام اوغور بہادر المعروف عبداللہ ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کب اور سرحد کے کس مقام سے پکڑا گیا۔ یہ تمام معلومات نام ظاہر نہ کرنے والے سکیورٹی ذرائع پر مبنی ہیں جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

ان ذرائع کے مطابق بہادر 2024 میں ترکی سے سرحدی علاقے گیا تاکہ داعش خراسان کے تربیتی کیمپوں میں شامل ہو سکے۔ ترکی کے حکام نے اسے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی۔ رپورٹ کے مطابق پوچھ گچھ سے گروپ کے آپریشنل ڈھانچے، بھرتی کی کارروائیوں اور ترکی میں حملوں کے منصوبوں کی تفصیلات سامنے آئیں۔ اسی معلومات سے ان نیٹ ورکوں کی نشاندہی میں مدد ملی جو نوجوان ترک شہریوں کو بھرتی کرتے ہیں۔

منٹ مرر نے اس گرفتاری کو ترکی اور افغانستان پاکستان علاقے کے درمیان کام کرنے والے بھرتی اور سہولت کاری کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے کا حصہ قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق اوزگور التون المعروف ابو یاسر الترکی کو جون 2025 میں پاک افغان سرحد کے قریب ایم آئی ٹی اور آئی ایس آئی کی مشترکہ کارروائی میں پکڑا گیا اور ان پر ترکی سے بھرتیوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کا الزام تھا۔

التون کی گرفتاری کے بعد احمد کازانجی المعروف ابو عبیدہ نے مبینہ طور پر داعش خراسان کی ترکی زبان میں پروپیگنڈہ مہم سنبھالی اور وہ 2026 کے اوائل میں سرحدی علاقے سے گرفتار ہوا۔ سکیورٹی ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ کازانجی پاکستان میں ہونے والے فضائی حملوں میں بچ نکلا تھا اور ترکی واپس جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مہمت گورن، جسے خودکش حملوں کی ذمہ داریاں دی گئی تھیں، دسمبر 2025 میں اسی علاقے سے ایم آئی ٹی نے گرفتار کیا اور اس کا تعلق بھی التون کے نیٹ ورک سے بتایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بہادر سے پوچھ گچھ میں یہ معلومات بھی ملیں کہ بھرتی کیے گئے افراد ایران کے راستے سرحدی علاقے کے تربیتی مراکز تک پہنچتے ہیں، اور گروپ کے معمول کے علاقے سے باہر حملوں کی تیاریاں بھی سامنے آئیں۔ اخبار نے ترکی کے میڈیا کے حوالے سے لکھا کہ تحقیق سے افغانستان پاکستان سرحدی علاقے سے چلائے جانے والے بھرتی، مالی معاونت اور پروپیگنڈہ نیٹ ورک بے نقاب ہوئے۔

منٹ مرر نے یہ بھی لکھا کہ سکیورٹی ذرائع کے مطابق عسکریت پسند گروپوں نے بلوچستان کے دور دراز علاقوں بشمول مستونگ، قلعہ عبداللہ نہیں بلکہ قلعہ سیف اللہ، خضدار، بولان اور سبی کے پٹی میں ٹھکانے بنانے کی کوشش کی، اور پاکستانی ادارے غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کسی اہلکار کا نام نہیں دیا گیا جس نے یہ معلومات فراہم کیں، اور نہ بہادر کی گرفتاری پر پاکستان یا ترکی کی حکومت کے کسی بیان کا حوالہ شامل ہے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔