علمائے کرام اور مذہبی رہنماؤں کا خودکش حملوں کے خلاف فتویٰ کی تائید
اسلام آباد میں قومی اور بلوچستان پیغامِ امن کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس نے پیغامِ پاکستان کی قومی بیانیے کی مکمل توثیق کی، اجلاس کی صدارت حافظ طاہر اشرفی نے کی۔

اسلام آباد: علمائے کرام، روحانی رہنماؤں اور مختلف مذاہب کے نمائندوں نے دہشت گردی، خودکش حملوں اور شدت پسندی کے خلاف فتویٰ کی متفقہ طور پر دوبارہ تائید کی ہے اور پیغامِ پاکستان کے نام سے معروف قومی بیانیے کی مکمل توثیق کی ہے۔ یہ اطلاع ڈان کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔
ڈان کے مطابق یہ اعلان قومی پیغامِ امن کمیٹی اور بلوچستان صوبائی پیغامِ امن کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں جامعہ سلفیہ دعوۃ الحق، اسلام آباد میں جاری ہوا۔ اجلاس کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور قومی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں موجود تمام شرکاء نے فتویٰ کی یک زبان ہو کر تائید کی اور پیغامِ پاکستان کی قومی بیانیے کی مکمل حمایت کی۔ جن دو کمیٹیوں نے یہ اجلاس بلایا، اُن کا نام پیغامِ امن سے ماخوذ ہے، اور قومی کمیٹی وہی ادارہ ہے جسے پیغامِ پاکستان کی دستاویز کے ساتھ منسلک بتایا جاتا رہا ہے۔
ڈان کی رپورٹ میں نہ فتویٰ یا اعلان کا متن شامل ہے، نہ شرکاء میں شامل علمائے کرام اور مذہبی نمائندوں کی تعداد، اور نہ ہی صدر اجلاس کے علاوہ کسی اور شرکا کے نام دیے گئے ہیں۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اجلاس کس تاریخ کو منعقد ہوا۔
اجلاس قومی کمیٹی نے اپنے بلوچستان صوبائی ہم منصب کے ساتھ مل کر بلایا، اور یہی تفصیل اس اعلان کو صوبائی سطح کے ادارے کو بھی جوڑتی ہے۔ دستیاب رپورٹس میں دونوں کمیٹیوں کی جانب سے کوئی الگ بیان موجود نہیں تھا۔
پاکستان میں علمائے کرام کے ایسے اعلانات کی اہمیت اس لیے ہے کہ مسلح گروہ عرصے سے اپنے حملوں کو مذہبی حوالے سے جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، اور ریاست ایسے بیانات کو شدت پسندی کے خلاف وسیع مذہبی اتفاقِ رائے کے ثبوت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ نئے اعلان کے عملی اثرات کا انحصار فتویٰ کے متن اور مساجد کی جماعتوں میں اس کی تقسیم کی وسعت پر ہوگا، اور دستیاب رپورٹس میں ان میں سے کوئی بات واضح نہیں کی گئی۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق شرکاء میں اسلامی علمائے کرام کے ساتھ روحانی رہنماؤں اور مختلف مذاہب کے نمائندے بھی شامل تھے، اور تائید کو متفقہ قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں وفاقی حکومت یا بلوچستان حکومت کے کسی افسر کا بیان موجود نہیں ہے، اور نہ ہی کسی آئندہ اجلاس کی تاریخ دی گئی ہے۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

فخر زمان کی سنچری، 4 ہزار ایک روزہ رنز کا سنگ میل بھی عبور
پاکستان کے بلے باز نے یہ سنگ میل اپنے 97ویں ایک روزہ میچ میں عبور کیا اور 4 ہزار ایک روزہ رنز بنانے والے ملک کے 16ویں بلے باز بن گئے۔