یونیسف: پاکستان میں 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کے خطرے سے دوچار
انڈیا ٹوڈے اور ملے میل کی رپورٹوں کے مطابق یہ انتباہ سامنے آیا ہے، ایکسپریس ٹریبیون نے بھی آن لائن گرومنگ کا خطرہ ظاہر کیا۔
اسلام آباد: یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ انتباہ انڈیا ٹوڈے اور ملے میل کی رپورٹوں کے مطابق سامنے آیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے پاکستان میں اسی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن گرومنگ بچوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ آن لائن خبر انگلش نے بھی یہی اعداد و شمار شائع کیے ہیں۔
ابتدائی رپورٹوں میں یہ تفصیل شامل نہیں تھی کہ یہ تخمینہ کیسے لگایا گیا اور کون سے آن لائن پلیٹ فارم ملوث ہیں۔ انڈیا ٹوڈے نے یہ انتباہ یونیسف سے منسوب کیا اور کہا کہ لاکھوں پاکستانی بچے آن لائن استحصال کے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ملے میل نے اپنی رپورٹ کی سرخی میں 'میں خوف میں جیتا ہوں' کے الفاظ استعمال کیے اور یہی 15 لاکھ کا اعداد و شمار پیش کیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں کہا گیا کہ آن لائن گرومنگ پاکستانی بچوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے، لیکن تحریر کے وقت اس کی مکمل رپورٹ دستیاب نہیں تھی۔ کسی بھی رپورٹ میں حکومت پاکستان، وفاقی تحقیقاتی ادارے یا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا فوری ردعمل شامل نہیں تھا۔
آن لائن گرومنگ عام طور پر ایک بالغ کے ذریعے سوشل میڈیا، میسجنگ ایپس یا آن لائن گیمز کے ذریعے بچے سے تعلق بنانے اور پھر استحصال کرنے کا عمل ہے۔ یونیسف پہلے بھی حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور والدین سے آن لائن بچوں کے تحفظ کے لیے مضبوط اقدامات پر زور دے چکا ہے۔
یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں بچوں میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کا استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے سوشل میڈیا اور چیٹ پلیٹ فارمز تک ان کی رسائی بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی بڑی ہے اور حالیہ برسوں میں انٹرنیٹ کی رسائی تیزی سے پھیلی ہے، تاہم بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار محدود ہیں۔
رپورٹوں میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 15 لاکھ کا اعداد و شمار صرف ان بچوں کے لیے ہے جن سے اجنبیوں نے رابطہ کیا، جو نازیبا مواد دیکھنے پر مجبور ہوئے، یا جن کے استحصال کو ریکارڈ اور شیئر کیا گیا۔ عمر، جنس یا صوبے کے لحاظ سے بھی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ ابتدائی کوریج میں پاکستانی حکام کا کوئی بیان شامل نہیں تھا۔ علیحدہ طور پر آج نیوز نے 31 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی اطلاع دی، لیکن اس کا آن لائن تحفظ کی وارننگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔