امریکا پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ نہیں دیکھنا چاہتا، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے اٹلانٹا میں کہا کہ واشنگٹن نے اسلام آباد کے تحفظات سن لیے ہیں اور تعمیری کردار کے لیے تیار ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ نہیں دیکھنا چاہتا اور اس نے افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں پر اسلام آباد کے تحفظات سن لیے ہیں۔ انہوں نے یہ بات 31 اکتوبر کو امریکی شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
روبیدو نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان نے اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے، اور اسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ ان کے مطابق اگر اس معاملے میں امریکا کے لیے کوئی مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی گنجائش ہوئی تو وہ ایسا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا دہشت گردی کی ہر شکل کی مخالفت کرتا ہے، چاہے وہ کہیں سے جنم لے یا کسی بھی ملک کو نشانہ بنائے، اور یہ بھی تسلیم کیا کہ واشنگٹن کے طالبان کے ساتھ کوئی خاص قریبی تعلقات نہیں ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات طالبان کے پانچ سال قبل دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد تیزی سے خراب ہوئے ہیں۔ پاکستان نے افغانستان سے متصل اپنے مغربی صوبوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کابل نے کالعدم تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی، جس کی افغانستان تردید کرتا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کے مطابق ایک سال سے زیادہ عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد بند ہے اور کشیدگی کئی بار مسلح جھڑپوں تک جا پہنچی ہے۔
اسی رپورٹ کے مطابق 18 اور 19 اکتوبر کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ یہ مذاکرات سرحد پر ہونے والی مہلک جھڑپوں کے بعد ہوئے تھے۔ 25 سے 30 اکتوبر تک استنبول میں ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور نگرانی و تصدیق کا طریقہ کار قائم کرنا تھا۔
ادھر پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ہفتے کے روز افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیان پر ردعمل میں کہا کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے اور حکومت اپنے شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ وزارت کے مطابق افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی روک تھام میں طالبان حکومت کی ناکامی دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر لانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اور کابل کو الزام تراشی کے بجائے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ وزارت نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس سے قبل کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم نہیں کرنا چاہتا۔ آج نیوز کے مطابق طالبان ماضی میں بھی پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں کہ ان کی سرزمین پر عسکریت پسند موجود ہیں۔
آج نیوز نے یہ بھی بتایا کہ روبیو نے ایران کے حوالے سے کہا کہ امریکا نے نئے فوجی حملوں کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، تاہم فوجی کارروائی کے امکان کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازعے کے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔

قطر میں پاکستانی سیاحوں کو 30 دن کا مفت ویزا آن ارائیول ملے گا
سفر سے پہلے ویزا لینے کی ضرورت نہیں، لیکن ہوٹل کی بکنگ ڈسکور قطر سے، پاسپورٹ پر تین ماہ کی میعاد، واپسی کا کنفرم ٹکٹ اور منظور شدہ ہیلتھ انشورنس لازمی ہے۔
پاکستان نے ون ڈے فائنل مشترکہ ریکارڈ تعاقب سے جیت لیا
کرک انفو کے مطابق یہ ون ڈے فائنلز کی تاریخ کا مشترکہ سب سے بڑا کامیاب تعاقب تھا، ٹائمز آف انڈیا نے اسے 23 سال قبل لارڈز میں بھارت کے تعاقب کی بازگشت قرار دیا۔
ملائیشیا کے پولیس سربراہ نے پاکستان میں 130 شہریوں کی حراست کی تصدیق کی
میلے میل کے مطابق انسپکٹر جنرل نے سائبر کرائم گروہ کے سلسلے میں حراست کی تصدیق کی اور تفتیش کار راولپنڈی بھیجے جا سکتے ہیں، تاہم الزامات سامنے نہیں آئے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔