مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

وقار یونس کا انتباہ: بابر اعظم کپتانی کے بوجھ سے جدوجہد کر رہے ہیں

سابق کپتان کے مطابق پاکستان بابر اعظم کو بطور بلے باز کھو رہا ہے، بھارتی میڈیا رپورٹس میں یہ بات کہی گئی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ

سابق پاکستانی کپتان اور فاسٹ بولر وقار یونس نے کہا ہے کہ بابر اعظم کپتانی کے دباؤ سے نبرد آزما ہونے میں مشکل محسوس کر رہے ہیں اور پاکستان انہیں بطور بلے باز کھو رہا ہے۔ یہ بات پیر کو بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں کہی گئی۔

ٹائمز آف انڈیا اور ہندوستان ٹائمز نے یہ رپورٹیں شائع کیں۔ ٹائمز آف انڈیا نے وقار یونس کے حوالے سے لکھا کہ بابر اعظم 'کپتانی کو سنبھالنے میں جدوجہد کر رہے ہیں' اور انہوں نے خبردار کیا کہ 'ہم ایک کھلاڑی کھو رہے ہیں'۔ ہندوستان ٹائمز نے بھی اسی طرح کی رپورٹ میں کہا کہ بابر اعظم 'کپتانی کے دباؤ کو سنبھالنے میں جدوجہد کر رہے ہیں' اور پاکستان انہیں 'بطور کھلاڑی کھو رہا ہے'۔ کسی بھی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وقار یونس نے یہ بات کہاں یا کب کہی۔

وقار یونس پاکستان کے سابق ہیڈ کوچ اور ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں میں شامل ہیں۔ ان کے تبصرے اس تشویش پر مرکوز ہیں جو پاکستانی کرکٹ حلقوں میں اکثر اٹھائی جاتی ہے کہ قیادت کا بوجھ بابر اعظم کی بیٹنگ کو متاثر کر رہا ہے۔

بابر اعظم پاکستان کے تینوں طرز میں سب سے مستقل مزاج ٹاپ آرڈر بلے باز ہیں اور کئی سالوں سے بیٹنگ کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں۔ ان کی رنز میں کسی بھی مسلسل کمی کے ٹیم کے نتائج پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔

دونوں رپورٹوں میں بابر اعظم یا پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے کوئی جواب شامل نہیں تھا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ وقار یونس نے یہ ریمارکس ٹیلی ویژن پروگرام، انٹرویو یا کسی اور موقع پر دیے۔

دونوں رپورٹیں غالباً ایک ہی ریمارکس پر مبنی ہیں، لیکن دونوں اخبارات نے اپنی سرخیوں میں قدرے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔

بابر اعظم اپنے کیریئر کے مختلف مراحل میں تینوں طرز میں پاکستان کی قیادت کر چکے ہیں۔ بڑے ٹورنامنٹس اور سیریز کے بعد سابق کھلاڑیوں کی جانب سے ان کی کپتانی پر تبصرے معمول بن چکے ہیں۔

وقار یونس کے یہ ریمارکس پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت پر سابق کرکٹرز کے عوامی تبصروں کے سلسلے میں تازہ اضافہ ہیں۔ رپورٹوں میں یہ بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ یونس ذاتی حیثیت میں بول رہے تھے یا کسی نشریاتی پینل کے حصے کے طور پر۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔