مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ڈبلیو ایچ او کا پاکستان میں بچوں کے کینسر کی مدد کا عزم

سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے پاکستان میں بچوں کے کینسر کی نگہداشت میں مدد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاہم مالی یا پروگرام کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
ڈبلیو ایچ او کا پاکستان میں بچوں کے کینسر کی مدد کا عزم

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان میں بچوں کے کینسر کے علاج اور نگہداشت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اطلاع ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور ریڈیو پاکستان کی رپورٹوں میں دی گئی۔

دونوں سرکاری اداروں نے جمعے کے روز یہ اعلان شائع کیا۔ اے پی پی نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او نے پاکستان میں بچوں کے کینسر کی نگہداشت بہتر بنانے کے لیے اپنی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان نے اسی پیش رفت کو بچوں کے کینسر کے خلاف جنگ میں ڈبلیو ایچ او کے عزم کی تجدید قرار دیا۔ دونوں رپورٹوں کا مفہوم ایک ہی تھا۔

کسی بھی رپورٹ میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ تجدید شدہ عزم میں کیا شامل ہوگا۔ نئی فنڈنگ، کیموتھراپی یا دیگر ادویات کی فراہمی، ڈاکٹروں اور نرسوں کی تربیت، یا بچوں کے کینسر وارڈز کی بہتری کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔

رپورٹوں میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ اعلان ڈبلیو ایچ او کے کس اہلکار نے کیا اور کہاں کیا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ تجدید شدہ عزم کب سے نافذ ہوگا اور اس کی پیش رفت کیسے ناپی جائے گی۔

پاکستان میں بچوں کے کینسر کے اعداد و شمار کے خواہاں قارئین کو دونوں رپورٹوں میں کوئی رہنمائی نہیں ملے گی۔ نہ تو سالانہ تشخیص ہونے والے بچوں کی تعداد، نہ بقا کی شرح اور نہ ہی موجودہ علاج معالجے کے مراکز کی استعداد کے بارے میں کوئی اعداد و شمار شامل کیے گئے۔

یہ بھی واضح نہیں کہ تجدید شدہ عزم کسی نئے معاہدے کا حصہ ہے یا پاکستانی محکمہ صحت کو پہلے سے جاری ڈبلیو ایچ او کی معاونت کا اعادہ ہے۔ اے پی پی ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ہے اور ریڈیو پاکستان سرکاری نشریاتی ادارہ ہے؛ دونوں نے ڈبلیو ایچ او کے اہلکاروں یا پاکستان کی وزارت قومی صحت خدمات کے علیحدہ تبصرے کے بغیر یہ اعلان شائع کیا۔

مزید تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔