مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ پاکستان کے فرنٹ لائن ویکسینیٹرز پر مرکوز

مشرقی بحیرہ روم کے دفتر کا کہنا ہے کہ ہیلتھ ورکرز کی بات سننا حفاظتی ٹیکوں کی مدد مضبوط کرنے کی کلید ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مشرقی بحیرہ روم کے علاقائی دفتر نے پاکستان میں فرنٹ لائن ویکسینیٹرز کی بہتر مدد کے لیے ان کی بات سننے پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کا عنوان "پاکستان کے فرنٹ لائن ویکسینیٹرز کی بہتر مدد کے لیے سننا" ہے اور اسے ریلیف ویب پر بھی جاری کیا گیا۔

فائلنگ کے وقت دستیاب مواد میں مزید تفصیلات موجود نہیں تھیں۔ اشاعت اس بات کا اشارہ ہے کہ پولیو اور دیگر معمول کی ویکسین فراہم کرنے والے ہیلتھ ورکرز کے حالات اور تجربات پر توجہ جاری ہے۔

پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ ویکسینیٹرز کو خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے کچھ علاقوں میں سیکیورٹی اور زمینی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ملکی دفاتر نے پہلے بھی ویکسینیشن ٹیموں پر حملوں اور بعض علاقوں میں کمیونٹی مزاحمت کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔

یہ رپورٹ کسی نئی پالیسی یا فنڈنگ کے اعلان کے بجائے فرنٹ لائن عملے سے رائے لینے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ دستیاب سرخی اور تعارفی جملے میں کوئی نام، اعداد و شمار یا مخصوص سفارشات شامل نہیں تھیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔