پاکستان میں خاتون کو جبری شادی سے بازیاب کرایا گیا
خلیج ٹائمز کے مطابق خاتون کو پاکستان لے جا کر کزن سے جبری شادی کروائی گئی تھی
پاکستان میں جبری شادی میں پھنسائی گئی ایک خاتون کو بازیاب کرانے کی اطلاع دو غیر ملکی خبروں میں دی گئی ہے۔ نائجیریا کے چینلز ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روز ایک مختصر خبر میں کہا کہ پاکستان میں ایک خاتون کو جبری شادی سے بازیاب کرایا گیا۔ دبئی سے شائع ہونے والے خلیج ٹائمز نے اپنی سرخی میں لکھا کہ خاتون کو پاکستان لے جا کر اس کی کزن سے جبری شادی کروائی گئی اور بعد میں اسے بازیاب کرایا گیا۔
دونوں اداروں نے خاتون کا نام، عمر یا قومیت نہیں بتائی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ جبری شادی اور بازیابی کا واقعہ پاکستان کے کس شہر یا صوبے میں پیش آیا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ بازیابی کس نے کی، کوئی گرفتاری ہوئی یا نہیں اور رہائی کے بعد خاتون کو کہاں منتقل کیا گیا۔
چینلز ٹیلی ویژن کی رپورٹ کا مکمل متن اس ڈیسک کو دستیاب نہیں ہو سکا اور خلیج ٹائمز کی خبر بھی محض سرخی پر مبنی ہے۔ ہفتے کے روز تک پاکستان کی کسی پولیس، صوبائی حکومت یا وفاقی ادارے نے اس معاملے پر بیان جاری نہیں کیا اور سکردو ٹائمز آزادانہ طور پر بازیابی کی تصدیق نہیں کر سکا۔
یہ دونوں ادارے غیر ملکی ہیں اور عام طور پر پاکستان سے متعلق خبریں بین الاقوامی خبر ایجنسیوں یا سرکاری بیانات پر مبنی ہوتی ہیں، لیکن اس معاملے میں ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ اس لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ متاثرہ خاتون پاکستانی شہری ہے، سمندر پار پاکستانی ہے یا غیر ملکی، اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ نکاح پاکستان میں ہوا یا کسی اور ملک میں۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں جبری شادی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں اور سرحد پار نقل و حرکت یا سمندر پار پاکستانیوں سے جڑے مقدمات عموماً وفاقی تحقیقاتی ادارہ اور صوبائی پولیس مشترکہ طور پر دیکھتے ہیں۔ خلیج ٹائمز کی سرخی میں کہا گیا ہے کہ خاتون کو پاکستان لے جایا گیا، جس سے یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی اور ملک سے آئی ہوں، تاہم دستیاب مواد سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
سکردو ٹائمز یہ مختصر خبر اس لیے شائع کر رہا ہے کہ دو آزاد خبر رساں اداروں نے ایک ہی واقعہ رپورٹ کیا ہے اور جبری شادی ایک سنگین جرم ہے۔ اگر پاکستانی حکام تفصیلات جاری کرتے ہیں تو اخبار اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔