گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے کی منصوبہ بندی
انرجی اپڈیٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد خطے میں بجلی کی قابلِ بھروسہ فراہمی کو بہتر بنانا ہے، تاہم اس کی جگہ، لاگت، شیڈول اور عمل درآمد کرنے والے ادارے کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
گلگت بلتستان میں بجلی کی فراہمی کو زیادہ قابلِ بھروسہ بنانے کے لیے 100 میگاواٹ کا شمسی توانائی منصوبہ تجویز کیا گیا ہے۔ یہ اطلاع انرجی اپڈیٹ کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔
رپورٹ میں اس کے علاوہ کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پلانٹ کہاں بنے گا، اس پر کتنی لاگت آئے گی، کون سا ادارہ اسے تعمیر کرے گا، یہ کب مکمل ہوگا اور اس کی مالی معاونت کہاں سے ہوگی۔ رپورٹ میں گلگت بلتستان حکومت، خطے کے محکمہ بجلی، واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی یا کسی وفاقی وزارت کا کوئی بیان بھی شامل نہیں۔ سکردو ٹائمز منصوبے کی موجودہ صورتحال کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
گلگت بلتستان کا نظامِ بجلی زیادہ تر دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاﺅں پر بنے پن بجلی گھروں سے چلتا ہے، جبکہ کچھ اضلاع میں ڈیزل سے چلنے والے جنریٹر اور چھوٹے مقامی منصوبے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ سردیوں میں دریاوں کا بہاﺅ کم ہونے سے پن بجلی کی پیداوار گھٹ جاتی ہے، اسی دوران گرمی کی طلب بڑھ جاتی ہے، اور خطے کے فیڈرز پر سردی کے مہینوں میں طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔
شمسی پلانٹ سے بنیادی طور پر دن کے وقت بجلی پیدا ہوگی۔ یہ اکیلا شام کے وقت کی طلب پوری نہیں کر سکتا، جب گلگت بلتستان میں طلب اور رسد کا فرق سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
انرجی اپڈیٹ نے اس منصوبے کو خطے میں بجلی کی قابلِ بھروسہ فراہمی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ تاہم رپورٹ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ منصوبہ منصوبہ بندی کے مرحلے سے آگے بڑھا ہے یا نہیں، اور یہ وفاقی اقدام ہے یا صوبائی۔
گلگت بلتستان میں گھرانوں اور کاروباروں کی جانب سے لوڈشیڈنگ، خصوصاً سردیوں میں، اور گرڈ غیر مستحکم ہونے کی صورت میں ڈیزل جنریٹر اور انورٹر چلانے کے اخراجات کے حوالے سے برسوں سے شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ خطے کے کاروبار، جن میں چھوٹی مینوفیکچرنگ اور سیاحت سے منسلک کاروبار شامل ہیں، بجلی کی مستقل فراہمی کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے رہے ہیں۔
خبر تیار کرنے کے وقت تک اس منصوبے کا کوئی سرکاری اعلان، اور نہ ہی اس بارے میں کوئی تصدیق دستیاب تھی کہ یہ خطے کے گرڈ میں کتنی صلاحیت شامل کرے گا اور کب۔ جیسے ہی گلگت بلتستان حکومت، محکمہ بجلی یا عمل درآمد کرنے والا ادارہ تفصیلات کی تصدیق کرے گا، یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
امیر مقام کا گلگت بلتستان کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد، ترقی اور سیاحت پر توجہ کا عزم
وفاقی وزیر برائے کشمیر امور و گلگت بلتستان نے خطے کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد دی اور ترقی و سیاحت پر توجہ جاری رکھنے کا کہا۔

گلگت بلتستان کا 80 واں یومِ آزادی اتوار کو، مرکزی تقریب گلگت میں
ریڈیو پاکستان کے مطابق مرکزی تقریب گلگت کے آرمی ہیلی پیڈ پر ہوگی، جس میں 1947 کی تحریکِ آزادی کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

سکردو میں چار افراد کا قتل، پولیس کو غیرت کے نام پر قتل کا شبہ
پولیس کے مطابق محمد اسلم، ان کی اہلیہ ہانیہ اسلم اور دو بچوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا جبکہ ایف آئی آر میں ہانیہ کے والد، بھائیوں اور ماموں کو نامزد کیا گیا ہے۔

ڈیم منصوبوں کی لاگت میں 1.9 ٹریلین روپے کا اضافہ، اسمبلی کو بتایا گیا
وزارت آبی وسائل نے اضافے کی وجہ زر مبادلہ کی شرح میں تبدیلی کو قرار دیا اور کہا کہ نظرثانی شدہ پی سی ون جمع کر دیا گیا ہے، جبکہ سیمنٹ، ڈیزل اور سٹیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔