مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

افغان طالبان کی گولہ باری، جنوبی وزیرستان میں ایک شہری ہلاک

ڈپٹی کمشنر کے مطابق 27 اکتوبر کی شب شہری گھروں اور انگور اڈہ بازار پر مارٹر گولے گرے، پانچ افراد زخمی اور متعدد دکانیں تباہ ہوئیں

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
افغان طالبان کی گولہ باری، جنوبی وزیرستان میں ایک شہری ہلاک

جنوبی وزیرستان (لوئر) میں افغان طالبان کی فورسز نے 27 اکتوبر کی شب شہریوں کے گھروں اور انگور اڈہ بازار کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک شہری جان سے گیا اور پانچ زخمی ہو گئے۔ ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ گولہ باری سے متعدد دکانیں بھی نقصان سے دوچار ہوئیں۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ افغان طالبان نے شہریوں کے گھروں اور بازار پر بلااشتعال فائرنگ کی، اور یہ کہ سرحد پر تعینات پاکستانی فورسز مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کر رہی ہیں۔

اردو پوائنٹ نے بھی اس واقعے کی خبر دی اور ایک شہری کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے شہری گھروں اور انگور اڈہ بازار کے خلاف ”بلااشتعال اور صریح جارحیت“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی مسلح افواج کے ”تیز، بھرپور اور فیصلہ کن جواب“ کو سلام پیش کرتے ہیں۔

گورنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ”پاکستان اپنے عوام پر حملوں یا اپنی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔“ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانیں قربان کی ہیں اور افواج کو ملک کی ”ایک ایک انچ“ کے دفاع کے لیے قوم کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔

کابل کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب چند روز قبل اسلام آباد نے کابل پر زور دیا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ یہ عسکریت پسند افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں، جبکہ افغانستان ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی پڑوسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتا۔

پاکستان نے متعدد بار افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو پناہ دے رہی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران تشدد میں واضح اضافہ ہوا ہے، جس کا ذمہ دار حکام بڑی حد تک ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ گروپوں کو ٹھہراتے ہیں، اور 2021 میں کابل میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سکیورٹی فورسز پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رواں سال سرحدی جھڑپوں اور افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

سلامتیخیبر پختونخوا

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی

پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔

سیاستخیبر پختونخوا

وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا

اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

سیاستخیبر پختونخوا

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع

وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

صحتخیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے

کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔