آٹو پارٹس ساز کمپنیاں پانچ سالہ آٹو پالیسی کا جائزہ مانگتی ہیں
مطالبے کی بنیاد ٹیکس میں رعایت کی مقدار نہیں بلکہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری کی پوری مدت کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکس کی شرح پہلے سے معلوم ہو، دو رپورٹوں کے مطابق۔

آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں نے حکومت سے آٹو پالیسی 2026-31 پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے، اور ان کی بنیادی دلیل ٹیکس میں رعایتوں کی مقدار نہیں بلکہ ٹیکس نظام کے بارے میں پہلے سے وضاحت ہے۔ یہ بات ان دو ذرائع کی رپورٹوں سے سامنے آئی ہے جنہوں نے یہ مطالبہ نشر کیا۔
پروفت کی رپورٹ کے مطابق پرزہ ساز ادارے اس پانچ سالہ پالیسی کا جائزہ مانگ رہے ہیں، جو گاڑیوں کی اسمبلی اور انہیں پرزے فراہم کرنے والی صنعت کے لیے محصولات اور ٹیکس کا تعین کرتی ہے۔
ڈان نے اسی پالیسی پر رپورٹ میں سرمایہ کاری کے پہلو سے دلیل دی اور سرخی میں لکھا کہ پاکستان کی آٹو پالیسی کو صرف کم ٹیکس نہیں بلکہ قابلِ پیشگی ٹیکس نظام درکار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے ماڈل کے لیے پرزے بنانے کا فیصلہ کرنے والی کمپنی کو نہ صرف موجودہ سال بلکہ پوری سرمایہ کاری کی مدت میں لاگو ڈیوٹی اور ٹیکس کی معلومات ہونی چاہیے۔
دونوں رپورٹوں میں پالیسی کی مدت 2026 تا 2031 کا ذکر ہے، اور یہی وہ عرصہ ہے جس کے لیے یہ وضاحت مانگی جا رہی ہے۔
ان رپورٹوں میں، جو اس اخبار کو دستیاب ہیں، یہ تفصیل موجود نہیں کہ پرزہ ساز کون سی مخصوص تبدیلیاں چاہتے ہیں، یہ مطالبہ کس فورم پر کیا گیا، اور وزارتِ صنعت و پیداوار، فیڈرل بورڈ آف ریونیو یا انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کی طرف سے کوئی ردِعمل سامنے آیا ہے۔ یہ ادارے ہی آٹو موٹیو محصولات اور ٹیکس کے فیصلے تشکیل دیتے ہیں۔ اس اخبار نے مطالبے کی تفصیلات آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی۔
پرزہ سازی کی سرمایہ کاری طویل المدتی ہوتی ہے۔ پریس، ڈائی اور مولڈ لائنیں کسی ماڈل کی متوقع پیداوار کے حساب سے منگوائی جاتی ہیں، اور اس مدت کے دوران ڈیوٹی کے ڈھانچے میں ایک سے زیادہ بار تبدیلی آ سکتی ہے۔ دونوں رپورٹوں نے صنعت کی دلیل اسی بنیاد پر رکھی ہے کہ ایسی رعایت کی قدر محدود ہوتی ہے جو اگلے بجٹ تک قائم نہ رہے۔
صنعت سے باہر کے قاری کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ پانچ سالہ پالیسی گاڑیوں کی قیمتوں اور مقامی طور پر بننے والے پرزوں کے حصے پر کیا اثر ڈالے گی۔ کسی رپورٹ میں اس کا کوئی عدد نہیں دیا گیا۔
یہ واضح نہیں کہ نظرثانی کی درخواست باقاعدہ طور پر زیرِ غور لی گئی ہے یا نہیں۔ اس اخبار کو دستیاب مواد میں اس مطالبے پر حکومت کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔