بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے
سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

کوئٹہ: بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست کا دروازہ ہر اُس شخص کے لیے کھلا رہے گا جو آئین اور قانون کے دائرے میں بات چیت کرنے کو تیار ہو۔ یہ بیان ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ کے نواحی مناز میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد سامنے آیا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ نے ان کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا جنہیں کامیاب قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ردالفِتنہ 3 کے تحت عسکریت پسندوں کے خلاف موثر کارروائیاں اُن عناصر کے ارادوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہیں جو صوبے میں امن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انہوں نے ایک ایسے "ماحول" کو ختم کرنے کا عہد بھی کیا، تاہم بیان کا یہ حصہ نامکمل شائع ہوا اور اس کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی۔
شائع شدہ بیان میں کسی عسکریت پسند گروہ کا نام نہیں دیا گیا، نہ کارروائیوں کی تاریخ بتائی گئی، نہ یہ کہا گیا کہ کتنے عسکریت پسند ہلاک، زخمی یا گرفتار ہوئے۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سکیورٹی اہلکاروں کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔
بلیدہ بلوچستان کے ڈویژن مکران میں واقع ضلع کیچ کا ایک قصبہ ہے۔ ضلع کیچ ایران سے متصل ہے اور گزشتہ برسوں میں یہاں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہی ہیں۔
دستیاب رپورٹوں میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کوئی الگ بیان شامل نہیں تھا اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ یہ کارروائیاں کس فارمیشن نے کیں۔
سرفراز بگٹی سابق سینیٹر اور نگران دور میں وزیر داخلہ رہ چکے ہیں اور 2024 سے وزیراعلیٰ بلوچستان کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ صوبائی حکومت جاری آپریشن کے پیچھے کھڑی ہے، جس کا نام انہوں نے اپنے بیان میں لیا۔
اسی بیان پر ایک اور اشاعتی ادارے کی رپورٹ بھی سامنے آئی، تاہم اس میں وزیراعلیٰ کے بات چیت اور کارروائیوں سے متعلق ریمارکس کے علاوہ کوئی نیا تفصیلی نکتہ شامل نہیں تھا۔

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا
خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ
پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ میں پانی کی قلت پر حکام طلب کر لیے
عدالت نے شہر کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا، لیکن طلب کیے گئے افسران کے نام اور سماعت کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔