خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ
پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔
بلوچستان کے ضلع خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے۔ یہ خبر پاکستان کنیکٹ نے 29 اکتوبر کو شائع کی اور اسے بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ’بزدلانہ حملے‘ کو ناکام بنانے کی کارروائی قرار دیا، تاہم واقعے کی تفصیلات کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکیں۔
پاکستان کنیکٹ نے اپنی رپورٹ کی سرخی میں لکھا کہ ’بی ایل اے کا بزدلانہ حملہ ناکام، سکیورٹی فورسز نے خاران میں 5 ڈرونز مار گرائے‘۔ آؤٹ لیٹ نے یہ نہیں بتایا کہ کارروائی کس فورس نے کی، ضلع خاران میں ڈرونز کہاں مار گرائے گئے، اور نہ ہی کوئی وقت درج کیا۔ سکردو ٹائمز کو رپورٹ کا مکمل متن دستیاب نہیں ہو سکا، اور سرخی یا اسٹینڈ فرسٹ میں جانی نقصان کا کوئی عدد بھی نہیں دیا گیا۔
اسی واقعے کو نشر کرنے والے دوسرے آؤٹ لیٹ بلوچستان پلس نے سرخی لگائی ’جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملہ ناکام‘، اور اس کے اسٹینڈ فرسٹ میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ جعفر ایکسپریس وہ مسافر ٹرین ہے جو کوئٹہ اور پشاور کے درمیان چلتی ہے۔
دونوں رپورٹس اس بات پر متفق نہیں کہ حملہ کس پر ہوا۔ پاکستان کنیکٹ ڈرونز مار گرائے جانے کی بات کرتا ہے، جبکہ بلوچستان پلس ٹرین پر راکٹ حملے کی۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دونوں سرخیاں ایک ہی واقعے کی مختلف تشریح ہیں یا اسی دن صوبے میں پیش آنے والے دو الگ واقعات۔
کسی رپورٹ میں انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر)، بلوچستان حکومت، صوبائی پولیس یا پاکستان ریلوے کے کسی بیان کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ کسی سرکاری افسر نے ڈرونز مار گرائے جانے، راکٹ حملے کی ناکامی یا کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔
خاران مغربی بلوچستان کا ایک ضلع ہے جس کا زیادہ تر رقبہ صحرائی ہے، اور گزشتہ برسوں میں وہاں سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات کو بار بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی، جسے ریاست نے کالعدم قرار دیا ہوا ہے، صوبے میں کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے، جن میں سکیورٹی چوکیوں، گیس اور ریلوے کے ڈھانچے پر حملے شامل ہیں۔
سکردو ٹائمز دونوں رپورٹس کی آزاد تصدیق نہیں کر سکا۔ جب تک کوئی سکیورٹی فورس، پولیس یا صوبائی حکومت تصدیق نہ کرے، قارئین کو چاہیے کہ تعداد اور نشانے کی تفصیل کو ان آؤٹ لیٹس کا دعویٰ سمجھیں جنہوں نے یہ شائع کیا۔ درست مقام، ڈرونز کی قسم، وقت، اور یہ کہ کوئی اہلکار یا شہری زخمی ہوا یا نہیں، کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
سرکاری بیان سامنے آنے پر یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے
سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا
بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ میں پانی کی قلت پر حکام طلب کر لیے
عدالت نے شہر کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا معاملہ اٹھایا، لیکن طلب کیے گئے افسران کے نام اور سماعت کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔