مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

اسلام آباد کے سیکٹر آئی-15 میں 36.5 ایکڑ اراضی سے قبضے ہٹا دیے گئے

ذرائع کے مطابق اس اراضی پر 500 پلاٹ بنائے جائیں گے، جن کے اجرا کی تاریخ یا طریقہ کار واضح نہیں کیا گیا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی-15 میں 36.5 ایکڑ اراضی سے قبضے ہٹا دیے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی اور اسلام آباد پوسٹ کی رپورٹوں کے مطابق اس اراضی پر 500 پلاٹ بنائے جائیں گے۔

دونوں ذرائع ابلاغ نے ایک ہی اعداد و شمار دیے ہیں یعنی 36.5 ایکڑ اراضی قبضہ مافیا سے خالی کرائی گئی اور اس پر 500 پلاٹ بنائے جائیں گے۔ تاہم ان رپورٹوں میں، جتنا اس اخبار کو دستیاب ہوا، یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کارروائی کس تاریخ کو کی گئی، اس کی نگرانی کس افسر نے کی، یا کتے ڈھانچے گرائے گئے۔

سی ڈی اے وفاقی دارالحکومت کی منصوبہ بندی اور ترقی کا ذمہ دار ادارہ ہے اور سرکاری اراضی پر قبضوں کو ہٹانا اس کے معمول کے فرائض میں شامل ہے، جو وہ شہر کے مختلف سیکٹروں میں وقتاً فوقتاً انجام دیتا رہا ہے۔ شائع شدہ رپورٹوں میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آئی-15 میں کس قسم کے قبضے ہٹائے گئے (رہائشی، تجارتی یا زراعتی) اور نہ یہ بتایا گیا کہ کارروائی سے قبل قابضین کو نوٹس جاری کیے گئے تھے یا نہیں۔

دارالحکومت کے نئے سیکٹروں کی اراضی بار بار اتھارٹی اور ایسے افراد کے درمیان تنازعے کا موضوع رہی ہے جو اپنے آپ کو الاٹمنٹ کا حقدار یا کئی سال سے وہاں مقیم بتاتے ہیں۔ رپورٹوں میں یہ معاملہ نہیں اٹھایا گیا کہ آئی-15 کی کارروائی سے متاثر ہونے والوں کو متبادل رہائش یا معاوضہ دیا گیا ہے یا نہیں، اور نہ یہ بتایا گیا کہ کسی نے اس کارروائی کو چیلنج کیا ہے۔

غیر ترقی یافتہ سیکٹروں میں پلاٹوں کی فروخت بھی اتھارٹی کے لیے آمدنی کا ذریعہ رہی ہے، جس نے ماضی میں تجارتی اور رہائشی پلاٹ نیلام کر کے رقم حاصل کی ہے۔ رپورٹوں میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آئی-15 کے 500 پلاٹ عوام کو کب پیش کیے جائیں گے، ان کی الاٹمنٹ کس طریقے سے ہوگی، یا ان کی قیمت کیا ہوگی۔

یہ اخبار اے پی پی اور اسلام آباد پوسٹ کی شائع کردہ تفصیلات سے آگے اس کارروائی کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ رپورٹنگ کے وقت سی ڈی اے کے افسران سے باضابطہ تبصرہ نہیں ہو سکا اور ایسا کوئی سرکاری بیان دستیاب نہیں تھا جس میں کارروائی کی ترتیب یا اس کی قانونی بنیاد واضح کی گئی ہو۔

آئی-15 دارالحکومت کے ان نئے سیکٹروں میں شمار ہوتا ہے جہاں ترقی شہر کے پرانے، مکمل سہولتوں والے علاقوں سے پیچھے رہی ہے اور جہاں اراضی کو استعمال میں لانے کے لیے اتھارٹی پر دباؤ رہتا ہے۔

صحتاسلام آباد

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن

ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

سیاستاسلام آباد

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع

جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

صحتاسلام آباد

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم

چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سیاستاسلام آباد

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم

30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔