مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے 13.32 ارب روپے کی سولر اسکیم منظور

سی ڈی ڈبلیو پی نے منصوبے کو ای سی این ای سی کے پاس حتمی منظوری کے لیے بھیج دیا ہے، جس کے بعد ہی رقم کے اجرا کا راستہ کھلے گا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے 13.32 ارب روپے کی سولر اسکیم منظور

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کے گھرانوں کو بجلی کے روایتی گرڈ سے آزاد سولر نظام فراہم کرنے کے لیے 13.323 ارب روپے کے منصوبے کو اگلے مرحلے تک پہنچا دیا ہے۔ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے وزیراعظم کی سولر اسکیم فار نیولی مرجڈ ڈسٹرکٹس کو منظور کرتے ہوئے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ای سی این ای سی) کے پاس حتمی منظوری کے لیے بھیج دیا۔

پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق اسکیم کا مقصد نشانہ بنائے گئے علاقوں کے گھرانوں کو ایسے سولر سسٹم فراہم کرنا ہے جو روایتی بجلی کے گرڈ سے الگ، خودمختار طور پر کام کریں۔ سی ڈی ڈبلیو پی کی منظوری صرف منصوبہ بندی کا مرحلہ ہے، ای سی این ای سی کی منظوری کے بغیر اسکیم پر عمل درآمد شروع نہیں ہو سکتا۔

یہ فیصلہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں 14 ترقیاتی منصوبے زیر غور آئے جن کی مجموعی تخمینی لاگت 226.48 ارب روپے بتائی گئی۔ پروپاکستانی کے مطابق سولر اسکیم حکومت کے تازہ ترین بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں میں خیبر پختونخوا سے متعلق تین بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ سی ڈی ڈبلیو پی وہ فورم ہے جو اس حجم کے منصوبوں کو ای سی این ای سی بھیجنے سے پہلے جانچتا ہے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسکیم سے کتنے گھرانوں تک پہنچنے کا ہدف ہے، کس حجم کے سولر سسٹم لگائے جائیں گے، یونٹس کی خریداری کیسے ہوگی یا رقم کس مدت میں خرچ کی جائے گی۔ 13.323 ارب روپے کی رقم سازوسامان، تنصیب اور انتظامی اخراجات کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی، اس کی تفصیل بھی فراہم نہیں کی گئی۔

سی ڈی ڈبلیو پی کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ وفاقی حکومت پوری رقم جاری کرنے کی پابند ہو گئی ہے۔ منصوبوں کی لاگت اور دائرہ کار ای سی این ای سی کے مرحلے پر نظرثانی سے مشروط رہتا ہے، اور اسکیم کی مالیاتی صورت صرف اس منظوری کے بعد حتمی ہوگی۔

نئے ضم شدہ اضلاع، یعنی سابقہ فاٹا، 2018 میں پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت خیبر پختونخوا میں ضم کیے گئے تھے۔ وہاں بجلی کی فراہمی طویل عرصے سے کمزور اور غیر مستحکم رہی ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں بار بار اسے بہتر بنانے کا وعدہ کرتی آئی ہیں۔ حکام سولر نظام کو ایسے علاقوں کے لیے عارضی حل کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں جہاں ٹرانسمیشن لائنیں بچھانا سست یا مہنگا ہو۔

ای سی این ای سی کا وہ اجلاس کب ہوگا جس میں یہ اسکیم پیش ہوگی، اس کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

سلامتیخیبر پختونخوا

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی

پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔

سیاستخیبر پختونخوا

وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا

اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

سیاستخیبر پختونخوا

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع

وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

صحتخیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے

کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔