چین کو پاکستان کی ضرورت شاہراہ قراقرم کے لیے، تیل کے لیے نہیں
جیوگرافی ناؤ کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان سے گزرنے والا بلند پہاڑی راستہ چین کی پاکستان سے وابستگی کی اصل وجہ ہے، تیل نہیں۔
ایم ایس این پر شائع ہونے والی جیوگرافی ناؤ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کو پاکستان کی ضرورت تیل کے لیے نہیں بلکہ ایک بلند پہاڑی نقل و حمل کی راہداری کے لیے ہے جس میں شاہراہ قراقرم شامل ہے۔ یہ دعویٰ رپورٹ کی سرخی اور ابتدائیہ کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے ابتدائیہ میں کہا گیا ہے کہ پہلی نظر میں چین اور پاکستان کا تعلق تجارت یا سیاست کا لگتا ہے لیکن اصل وجہ اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ اس میں ایک واحد بلند پہاڑی راہداری کا ذکر ہے جس میں شاہراہ قراقرم شامل ہے اور جو چین کو، دستیاب مواد میں یہ جملہ ادھورا ہے۔
شاہراہ قراقرم گلگت بلتستان سے گزرتی ہے اور خنجراب پاس کے راستے چین میں داخل ہوتی ہے، جو دنیا کی بلند ترین پکی سرحدی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ شاہراہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا مرکزی حصہ ہے جو سنکیانگ کے کاشغر کو بحیرہ عرب پر گوادر بندرگاہ سے ملاتی ہے۔ تجزیہ کار طویل عرصے سے نوٹ کرتے رہے ہیں کہ یہ راستہ چین کو بحر ہند تک ایک مختصر زمینی رابطہ فراہم کرتا ہے جس سے آبنائے ملاکا پر انحصار کم ہوتا ہے۔
شاہراہ قراقرم کو اکثر دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہا جاتا ہے۔ اسے پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تعمیر کیا اور 1979 میں مکمل ہوا۔ یہ پنجاب کے حسن ابدال سے خنجراب پاس تک تقریباً 1300 کلومیٹر طویل ہے اور دنیا کے بلند ترین پہاڑی سلسلوں سے گزرتی ہے۔ یہ شاہراہ گلگت بلتستان کے لیے ایک لائف لائن ہے اور ایسی وادیوں تک سامان اور مسافر پہنچاتی ہے جو کبھی صرف پیدل یا خچر کے راستے قابل رسائی تھیں۔ حالیہ برسوں میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت اپ گریڈیشن سے سڑک کے کچھ حصے چوڑے کیے گئے ہیں اور سرنگیں بنائی گئی ہیں تاکہ سفر کا وقت کم ہو، خاص طور پر سردیوں میں جب لینڈ سلائیڈنگ اور برف راستہ بند کر دیتی ہے۔
جیوگرافی ناؤ کی رپورٹ، جو ایم ایس این پر میزبانی کی گئی ہے، تلاش کے نتائج میں مکمل متن فراہم نہیں کرتی۔ اسکردو ٹائمز صرف سرخی اور ابتدائیہ حاصل کرسکا۔ کوئی اضافی تفصیلات، جیسے مخصوص اعداد و شمار، سرکاری بیانات یا وہ منزل جس سے یہ راہداری منسلک بتائی گئی ہے، دستیاب نہیں تھیں۔
اگر مکمل تجزیہ دستیاب ہوا تو اسکردو ٹائمز اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
امیر مقام کا گلگت بلتستان کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد، ترقی اور سیاحت پر توجہ کا عزم
وفاقی وزیر برائے کشمیر امور و گلگت بلتستان نے خطے کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد دی اور ترقی و سیاحت پر توجہ جاری رکھنے کا کہا۔

گلگت بلتستان کا 80 واں یومِ آزادی اتوار کو، مرکزی تقریب گلگت میں
ریڈیو پاکستان کے مطابق مرکزی تقریب گلگت کے آرمی ہیلی پیڈ پر ہوگی، جس میں 1947 کی تحریکِ آزادی کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

سکردو میں چار افراد کا قتل، پولیس کو غیرت کے نام پر قتل کا شبہ
پولیس کے مطابق محمد اسلم، ان کی اہلیہ ہانیہ اسلم اور دو بچوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا جبکہ ایف آئی آر میں ہانیہ کے والد، بھائیوں اور ماموں کو نامزد کیا گیا ہے۔

ڈیم منصوبوں کی لاگت میں 1.9 ٹریلین روپے کا اضافہ، اسمبلی کو بتایا گیا
وزارت آبی وسائل نے اضافے کی وجہ زر مبادلہ کی شرح میں تبدیلی کو قرار دیا اور کہا کہ نظرثانی شدہ پی سی ون جمع کر دیا گیا ہے، جبکہ سیمنٹ، ڈیزل اور سٹیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔