فضائی آلودگی کانفرنس نے وفاقی و صوبائی اقدامات کا کمپیکٹ منظور کر لیا
دو روزہ اسلام آباد کانفرنس میں گلگت بلتستان کی ماحولیاتی ایجنسی بھی شریک ہوئی، تاہم کمپیکٹ کے اہداف یا مقررہ تاریخیں ظاہر نہیں کی گئیں۔

اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ پاکستان نیشنل کلین ایئر کانفرنس جمعرات کے روز اسلام آباد کلین ایئر کمپیکٹ کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس میں وفاقی اور صوبائی حکام کو فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے وقت کی پابندی کے ساتھ مشترکہ اقدامات کا پابند کیا گیا ہے۔
ڈان کے مطابق اس دو روزہ کانفرنس میں حکومتی اہلکار، صوبائی ماحولیاتی تحفظ ایجنسیوں کے نمائندے، جن میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی ایجنسیاں بھی شامل تھیں، اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار شریک ہوئے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق کمپیکٹ میں وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط اقدامات، موجودہ قوانین کے سخت نفاذ، باقاعدہ اخراج انوینٹری اور سالانہ جائزوں کی تجویز دی گئی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کمپیکٹ وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز کو وقت پر عمل درآمد، سخت نفاذ، باقاعدہ اخراج انوینٹری اور سالانہ جائزہ اجلاسوں پر مبنی مشترکہ فریم ورک کا پابند کرتا ہے۔
ڈان کے مطابق کانفرنس میں ٹرانسپورٹ، صنعت، زرعی باقیات کی جلائی، گھریلو کھانا پکانے اور کچرے سے پیدا ہونے والی آلودگی پر گفتگو کی گئی۔
دستیاب رپورٹوں میں کمپیکٹ کا مکمل متن، اس میں دی گئی مقررہ تاریخیں، اخراج میں کمی کے اہداف یا اس کا اعلان کرنے والے اہلکار کا نام شامل نہیں تھا۔ کسی رپورٹ میں اختتامی روز کسی وزیر یا وفاقی ماحولیاتی اہلکار کا بیان بھی نقل نہیں کیا گیا۔
کانفرنس میں گلگت بلتستان کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی بھی شریک تھی، جس کا مطلب ہے کہ اس خطے کے فضائی معیار کا انتظام بھی اس فریم ورک کے دائرے میں آتا ہے جس کا خاکہ کمپیکٹ میں دیا گیا ہے۔
رپورٹوں میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سا محکمہ کمپیکٹ پر پیش رفت کی نگرانی کرے گا، تعمیل کی پیمائش کیسے ہوگی، یا پہلا سالانہ جائزہ کب ہوگا۔
پاکستان میں فضائی آلودگی وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور کمپیکٹ میں تعاون پر زور دینا اسی تقسیمِ ذمہ داری کا عکاس ہے، نہ کہ کوئی نئی قانونی حد مقرر کرنا۔ یہ وعدے کس حد تک قابلِ نفاذ قواعد کی صورت اختیار کریں گے، یہ انھی محکموں پر منحصر ہے جنھوں نے انھیں قبول کیا۔
شرکت کرنے والی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے علیحدہ بیانات جاری نہیں کیے جو کسی بھی میڈیا ادارے نے شائع کیے ہوں۔ رپورٹوں کے مطابق یہ اپنی نوعیت کی پہلی قومی سطح کی کانفرنس تھی جو تحریری کمپیکٹ پر اختتام پذیر ہوئی، تاہم اس سے قبل کی کسی رابطہ کاری کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
اسلام آباد کلین ایئر کمپیکٹ کو عمل درآمد کے لیے شرکاء صوبائی و علاقائی ایجنسیوں کے سامنے پیش کیے جانے کی توقع ہے، لیکن رپورٹوں میں اس عمل کا کوئی وقتی خاکہ نہیں دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔