مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ڈھاکہ یونیورسٹی میں جناح کی تصاویر پھاڑنے کی تحقیقات

سابق طالب علم نے طلبہ یونین کی گیلری سے بانی پاکستان کی تصاویر اتار کر پھاڑ دیں، جس سے 1948 کے زبان کے تنازع پر بحث پھر چھڑ گئی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
ڈھاکہ یونیورسٹی میں جناح کی تصاویر پھاڑنے کی تحقیقات

ڈھاکہ یونیورسٹی نے اپنے طلبہ یونین کے تاریخی آرکائیو میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصاویر آویزاں کیے جانے اور ایک سابق طالب علم کی جانب سے انہیں پھاڑے جانے کے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی اردو کے مطابق واقعہ 14 ستمبر کو پیش آیا اور اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

دی ڈیلی سٹار کے مطابق یہ گیلری 13 ستمبر کو دوبارہ کھولی گئی تھی اور اس میں بنگلہ دیش کی تاریخ، تقسیم ہند اور طلبہ تحریکوں سے متعلق تصاویر رکھی گئی تھیں۔ طلبہ یونین کا دعویٰ ہے کہ شیخ حسینہ کے دور میں گیلری کو عوامی لیگ کا بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا، اس لیے تاریخ درست کرنے کی کوشش کی گئی۔

ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کی شناخت ابو طیب کے نام سے ہوئی، جو ڈھاکہ یونیورسٹی کے سابق طالب علم ہیں۔ اے ایف پی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جناح ہمارے نہیں، پاکستان کے بابائے قوم تھے اور جب وہ بنگالیوں اور بنگالی زبان کے خلاف ہوئے تو ہمارے لیے ولن بن گئے۔

دی ڈیلی سٹار کے مطابق گیلری میں جناح کی تین تصاویر تھیں: ایک مارچ 1948 کی جس میں وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دے رہے ہیں، دوسری 1940 کے لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی، اور تیسری ڈان اخبار کے 1970 کے الیکشن سے متعلق تراشے پر۔ گیلری میں شیخ مجیب الرحمان کی کوئی نمایاں تصویر موجود نہیں تھی؛ دی ڈیلی سٹار کے مطابق صرف ان کے بیٹوں کی 1974 کی شادیوں کی ایک تصویر اور تین اخباری تراشے تھے۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے طلبہ ونگ بنگلہ دیش اسلامی چھاترو کے رہنما ایس ایم فرہاد نے واقعے کو بلوائی حملہ قرار دیا اور کہا کہ جناح کی تصویر ڈھاکہ یونیورسٹی کی تاریخ کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسے تاریخ سے مٹانے کی کوشش کی گئی تو اس کا مطلب جناح کے موقف کی حمایت ہو گا۔

بنگلہ دیشی تجزیہ کار الطاف پرویز نے اے ایف پی کو بتایا کہ بنگلہ دیش میں جناح کو کبھی پذیرائی نہیں ملی اور موجودہ ماحول میں اسلام پسندوں کے ابھرنے کے باعث جناح کے حوالے سے ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے۔ بی بی سی بنگلہ سروس کے ایڈیٹر میر صابر نے کہا کہ جناح کا 1948 کا ڈھاکہ دورہ اور اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کا اعلان آج بھی سب سے زیادہ یاد کیا جاتا ہے، جس کے بعد زبان کی تحریک میں شدت آئی اور 1952 میں ہلاکتیں ہوئیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر محبوب حسین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس وقت مسلم لیگ کے بنگالی رہنماؤں نے بھی اردو کی حمایت کی تھی لیکن مشرقی پاکستان میں ایک طبقہ مخالف تھا، اور 1971 کے بعد غلط فہمیاں مزید بڑھیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔