مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

الیکشن کمیشن کا انتخابات میں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے 12 ترامیم کی تجویز

2023 کے ضابطہ اخلاق میں مجوزہ ترامیم کے تحت میڈیا کو AI سے تیار کردہ مواد کی نشاندہی لازمی ہوگی اور ڈیپ فیک پر پابندی ہوگی؛ رائے 20 نومبر تک طلب کی گئی ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
الیکشن کمیشن کا انتخابات میں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے 12 ترامیم کی تجویز

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2023 میں سیاسی جماعتوں، میڈیا اداروں اور انتخابی مبصرین کے لیے بنائے گئے ضابطہ ہائے اخلاق میں 12 ترامیم کی تجویز دی ہے، جن کا مقصد انتخابی مہم اور پولنگ کے دوران مصنوعی ذہانت یعنی AI کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔

کمیشن نے عوام اور متعلقہ فریقوں سے ڈرافٹ ترامیم پر 20 نومبر تک رائے طلب کی ہے۔ یہ اطلاع ایکسپریس ٹریبین نے دی، جبکہ دی نیشن نے بھی یہی پیش رفت شائع کی اور یو اے نیوز نے بھی خبر چلائی، جس کا حوالہ ایکسپریس ٹریبین کو دیا گیا۔

ایکسپریس ٹریبین کی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ڈرافٹ میں میڈیا اداروں کے ضابطہ اخلاق میں پانچ، سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے ضابطے میں پانچ اور انتخابی مبصرین کے ضابطے میں تین تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں ترامیم کی کل تعداد 12 بتائی گئی، تاہم دی گئی تفصیل 13 بنتی ہے اور رپورٹس میں اس فرق کی وضاحت نہیں کی گئی۔

تجویز کے مطابق میڈیا اداروں کو لازمی ہوگا کہ وہ واضح طور پر بتائیں کہ کوئی مواد AI کے ذریعے تیار یا تبدیل کیا گیا ہے اور اسے نشر، شائع یا جاری کیا جا رہا ہے۔ ادارے انتخابی مواد کی تیاری، ترجمے، پیشکش یا تجزیے کے لیے AI ٹولز استعمال کر سکیں گے، لیکن انہیں اس کا اعلان کرنا ہوگا اور مواد کی صحت و اصلیت کی ذمہ داری بھی انہی پر ہوگی۔

ڈرافٹ میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، امیدواروں، انتخابی عہدیداروں، عدلیہ، مسلح افواج کے اہلکاروں اور دیگر سرکاری عہدیداروں کی جعلی تصاویر، آوازیں یا بیانات بنانے کی صریح ممانعت کی گئی ہے، بشرطیکہ مواد جھوٹا، ہتک آمیز یا ان کی تضحیک پر مبنی ہو۔

نگرانی مشترکہ طور پر کی جائے گی۔ پیمرا، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ایسے AI مواد پر نظر رکھیں گے جس کی نشاندہی نہ کی گئی ہو اور خلاف ورزیوں کی اطلاع الیکشن کمیشن کو دیں گے تاکہ کارروائی کی جا سکے۔

ترامیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز الیکشن کمیشن یا کسی ریگولیٹری ادارے کی ہدایت پر گمراہ کن یا غیر اعلان شدہ AI مواد فوری طور پر ہٹائیں یا اسے درست طریقے سے دوبارہ لیبل کریں۔

رپورٹس میں ان عہدیداروں کے نام نہیں بتائے گئے جنہوں نے ترامیم کا مسودہ تیار کیا، اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ 2023 کے ضابطوں میں کون سی شقیں نئی شامل کی جائیں گی اور کون سی بدلی جائیں گی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کمیشن نے ترامیم منظور کرنے کی کوئی تاریخ مقرر کی ہے یا نہیں، نئی شرائط کب سے نافذ ہوں گی، یا مشاورت مکمل ہونے سے قبل ہونے والے کسی انتخابی عمل پر یہ لاگو ہوں گی۔ مسودے کی کاپی رپورٹس کے ساتھ منسلک نہیں تھی۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔