پشاور میں چار افغان شہری جعلی پاکستانی دستاویزات کے الزام میں گرفتار
ایف آئی اے کی انسداد انسانی سمگلنگ سرکل نے شاہین ٹاؤن کے سپن گھر ہاسٹل پر چھاپہ مارا اور تصاویر والے شناختی کارڈز کی نقول برآمد کیں۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے پشاور میں چار افغان شہریوں کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے پاکستانی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ حاصل کیے اور انہی کی بنیاد پر پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق ایف آئی اے کی انسداد انسانی سمگلنگ سرکل (اے ایچ ٹی سی) پشاور نے شاہین ٹاؤن کے سپن گھر ہاسٹل پر چھاپہ مارا۔ یہ کارروائی اس اطلاع پر کی گئی کہ مذکورہ ہاسٹل میں افغان شہری مقیم ہیں اور ایجنٹوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کر رہے ہیں۔
ٹیک جوس کی رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت صدیق اللہ، رحمت اللہ، عبداللہ اور ناصر کے نام سے ہوئی، اور یہ چاروں افغان شہری ہیں۔ اے پی پی نے نام جاری نہیں کیے۔
ٹیک جوس کے مطابق چھاپے کے دوران پاکستانی شناختی کارڈز کی ایسی نقول برآمد ہوئیں جن پر تصاویر لگی ہوئی ہیں۔ ابتدائی پوچھ گچھ میں چاروں نے بتایا کہ انہیں یہ کارڈز طلعت نامی ایجنٹ کی مدد سے ملے جو پیر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اور وہ کوئی درست پاکستانی ویزا پیش نہیں کر سکے۔
ایف آئی اے نے اپنے اے ایچ ٹی سی پشاور دفتر میں مقدمہ نمبر 208/2026 درج کیا۔ ٹیک جوس کے مطابق الزامات پاکستان پنل کوڈ کی دفعات 419، 420، 468، 471 اور 109 کے ساتھ ساتھ فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 کے تحت ہیں۔ پنل کوڈ کی یہ دفعات دھوکہ دہی، کسی اور کی شناخت اختیار کر کے دھوکہ دینے، جعلسازی اور جعلی دستاویز کو اصل کے طور پر استعمال کرنے سے متعلق ہیں، جبکہ فارنرز ایکٹ کی دفعت غیر ملکیوں کے جرائم پر لاگو ہوتی ہے۔
دونوں رپورٹس کے مطابق یہ چھاپہ ایف آئی اے پشاور زون کو ملنے والی اطلاع کے بعد کیا گیا اور گرفتاریاں جمعرات کے روز کی گئیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ چاروں ملزمان کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے یا انہیں ریمانڈ پر بھیجا گیا ہے۔ ایف آئی اے حکام نے یہ بھی نہیں بتایا کہ پوچھ گچھ میں نامزد ایجنٹ کی تلاش جاری ہے یا نہیں، یا ان کے نام پر پہلے جاری ہونے والے شناختی ریکارڈ کی جانچ ہو رہی ہے۔

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔