مالی سال 27-2026 کے ابتدائی دو ماہ میں مچھلی کی برآمدات میں 3.23 فیصد اضافہ
پاکستان نے جولائی اگست 2026 میں 24,662 میٹرک ٹن مچھلی 47.791 ملین ڈالر میں برآمد کی، جو گزشتہ سال 22,433 میٹرک ٹن سے زیادہ ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ یعنی جولائی اور اگست 2026 میں مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات کی برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 3.23 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے منگل کو جاری کیے۔
پی بی ایس کے مطابق پاکستان نے جولائی اور اگست 2026 کے دوران 24,662 میٹرک ٹن مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات برآمد کیں جن کی مالیت 47.791 ملین ڈالر رہی۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں برآمدی حجم 22,433 میٹرک ٹن تھا۔ اس طرح مقدار کے لحاظ سے برآمدات میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ڈالر مالیت میں 3.23 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بلیٹن میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کی ڈالر مالیت کا تقابلی اعداد و شمار اس حصے میں شامل نہیں تھا جو خبر رساں ادارے نے جاری کیا۔ موجودہ اعداد و شمار کی بنیاد پر فی میٹرک ٹن اوسط قیمت تقریباً 1,938 ڈالر بنتی ہے، تاہم گزشتہ سال کی مالیت کے بغیر براہ راست موازنہ ممکن نہیں۔
اے پی پی کی رپورٹ کا عنوان مچھلی اور گوشت دونوں کی برآمدات میں اضافے سے متعلق تھا، لیکن دستیاب متن میں صرف مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات کے اعداد و شمار شامل تھے۔ گوشت کی برآمدات کے الگ اعداد و شمار اس خلاصے میں موجود نہیں تھے۔
پاکستان کا مالی سال یکم جولائی سے 30 جون تک ہوتا ہے، اس لیے یہ اعداد و شمار نئے مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ پی بی ایس ماہانہ بنیادوں پر درآمدات اور برآمدات کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے جن میں خوراک اور غیر خوراکی اشیاء شامل ہوتی ہیں۔ ان اعداد و شمار کو پالیسی ساز، برآمد کنندگان اور محققین ملکی تجارتی کارکردگی کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
رپورٹ اسلام آباد سے فائل کی گئی اور اس میں منزل یا مصنوعات کی قسم کے لحاظ سے برآمدات کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اے پی پی سرکاری خبر رساں ادارہ ہے جو وفاقی وزارتوں اور شماریاتی اداروں کے اعداد و شمار باقاعدگی سے شائع کرتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔