زر مبادلہ کے ذخائر ریکارڈ 26.86 ارب ڈالر پر پہنچ گئے، اسٹیٹ بینک
30 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں مرکزی بینک کے ذخائر 39 ملین ڈالر بڑھ کر 21,561.2 ملین ڈالر ہو گئے، جبکہ کل مائع ذخائر 26,864.5 ملین ڈالر تک پہنچ گئے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو اپنے ہفتہ وار بیان میں بتایا کہ 30 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک کے کل مائع زر مبادلہ کے ذخائر ریکارڈ 26,864.5 ملین ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس میں سے مرکزی بینک کے پاس 21,561.2 ملین ڈالر تھے، جبکہ باقی رقم تجارتی بینکوں کے پاس ہے۔
بیان کے مطابق اس ہفتے اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 39 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ڈان نے رپورٹ کیا کہ اسی ہفتے مرکزی بینک اور تجارتی بینکوں، دونوں کے زر مبادلہ کے ذخائر بڑھے۔ تجارتی بینکوں کے حصے کا حجم 5,303.3 ملین ڈالر بنتا ہے۔
ڈان کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ کے بلند ترین ذخائر ہیں۔ اخبار نے لکھا کہ مرکزی بینک نے فروری کے بعد سے 5 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کیا، جب اس کے ذخائر 16.568 ارب ڈالر تھے، اور 30 اکتوبر کو اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.568 ارب ڈالر بتائے۔
خلیجی جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی۔ ڈان کے مطابق اس جنگ نے کمزور معیشتوں کو جھٹکا دیا جن میں پاکستان بھی شامل ہے، اور تیل کی بلند قیمتوں پر غیر یقینی پیدا کی۔ اخبار کے مطابق اس عرصے میں مرکزی بینک کے ذخائر بڑھتے رہے۔
اسٹیٹ بینک یہ بیان ہر ہفتے جاری کرتا ہے، جس میں مرکزی بینک اور تجارتی بینکوں کے ذخائر الگ الگ بتائے جاتے ہیں۔ 30 اکتوبر تک کے ہفتے کا بیان جمعرات کو جاری ہوا۔
ڈیلی ٹائمز نے یہی بیان شائع کرتے ہوئے ہفتے کے اعداد و شمار دیے: کل مائع ذخائر 26,864.5 ملین ڈالر، اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21,561.2 ملین ڈالر، اور مرکزی بینک میں 39 ملین ڈالر کا اضافہ۔ انویسٹیفائی نے کل ذخائر 26.86 ارب ڈالر بتائے۔
رپورٹوں میں فرق
ڈان نے خلیجی جنگ کو نمایاں کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ریکارڈ تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود قائم ہوا اور مرکزی بینک نے فروری کے بعد سے 5 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کیا۔ ڈیلی ٹائمز نے ہفتہ وار بیان کو سامنے رکھا اور درست اعداد و شمار دیے: کل ذخائر 26,864.5 ملین ڈالر اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21,561.2 ملین ڈالر، جو 39 ملین ڈالر بڑھے، مگر جنگ کا حوالہ نہیں دیا۔ 30 اکتوبر کے اسٹیٹ بینک ذخائر پر دونوں کے اعداد مختلف ہیں: ڈان نے 21.568 ارب ڈالر بتائے، ڈیلی ٹائمز نے 21,561.2 ملین ڈالر۔ انویسٹیفائی نے صرف کل رقم 26.86 ارب ڈالر شائع کی۔

کے ایس ای 100 انڈیکس 3,994 پوائنٹس کے اضافے سے 172,013 پر بند ہوا
ادارہ جاتی خریداری اور تیل کی قیمتوں میں نرمی کی امیدوں نے بینچ مارک انڈیکس کو 2.38 فیصد بلند کیا، جبکہ سرمایہ کار امریکی وسط مدتی انتخابات اور امریکہ ایران مذاکرات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

ترک پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی
600 رکنی اسمبلی میں 279 ارکان نے حق میں اور 119 نے مخالفت میں ووٹ دیا؛ انقرہ کا کہنا ہے کہ یمن میں لڑنے کے لیے کوئی ترک فوجی نہیں بھیجا جائے گا۔

ایف بی آر نے پیشگی ادائیگیوں پر سیلز ٹیکس انوائس لازمی قرار دے دی
ایس آر او 2063 برائے 2026 کے تحت ٹیکس دہندہ کو آؤٹ پٹ ٹیکس اسی دورانیے کی رٹرن میں ظاہر کرنا ہوگا جس میں رقم موصول ہو، اور ہر پیشگی انوائس کو الیکٹرانک طور پر منسلک کرنا ہوگا۔

پاکستان کا بیرونی قرضہ ایک دہائی میں تقریباً دگنا، 135 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
عالمی بینک کی بین الاقوامی قرض رپورٹ 2026 کے مطابق حکومتی اور حکومتی ضمانت والا قرض 107.076 ارب ڈالر جبکہ نجی غیر ضمانتی قرضہ 17.58 ارب ڈالر ہے، اور چین اب بھی پاکستان کا سب سے بڑا قرض دہندہ ہے۔

بجلی کی نظرثانی شدہ منصوبہ بندی سے 17 ارب ڈالر بچت کا امکان
اسلام آباد میں ایل یو ایم ایس انرجی انسٹیٹیوٹ کے ڈائیلاگ میں بتایا گیا کہ مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت 1.1 ٹریلین روپے جبکہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن آلات کی متوقع طلب 1.9 ٹریلین روپے ہے۔

وزیراعظم کا ایس ایم ایز کے لیے 80 فیصد برآمدی شرط ختم کرنے کا حکم
بینکوں کو سبسڈی والی اسکیم سے انحراف کی اجازت نہ دینے کی ہدایت، اجلاس کو بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک کے پورٹل پر یکم نومبر سے 10 ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔

ایف بی آر نے ایبٹ آباد اور دیہی اسلام آباد میں جائیداد کی تشخیص تبدیل کر دی
5 نومبر کے دو نوٹیفکیشن میں ایبٹ آباد کے بازاروں کے فی مرلہ نرخ مقرر کیے گئے اور دیہی اسلام آباد کی تشخیص ڈسٹرکٹ کلکٹر کی شرحوں سے منسلک کر دی گئی۔

نواں پولیو کیس، وزیراعظم کا ایک ہفتے میں قومی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت
نو کیسز میں سے سات خیبر پختونخوا میں ہیں، اور اہلکاروں نے بتایا کہ خیبر کے تینوں کیسز افغانستان میں گردش کرنے والے وائرس سے منسلک ہیں۔