1947ء کی جنگ کے غازیوں نے قربانیوں اور قید کی کہانی سنائی
چار غازیوں نے بتایا کہ ان کے پاس روٹی، کپڑا اور اسلحہ نہیں تھا، جبکہ ایک سال پانچ ماہ قید رہنے والے سپاہی نے کہا کہ وہ آج بھی لڑنے کو تیار ہیں۔

گلگت بلتستان کی 1947ء کی جنگ میں لڑنے والے چار غازیوں نے بتایا ہے کہ ان کے پاس کھانا، کپڑا اور اسلحہ کچھ نہیں تھا، اور ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ وہ ایک سال پانچ ماہ دشمن کی قید میں رہے۔ ایکسپریس نیوز نے یہ بیان ایک ویڈیو رپورٹ میں شائع کیا جس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انٹرویوز کب اور کہاں ریکارڈ کیے گئے۔
سپاہی علی مدد نے کہا کہ روٹی، کپڑا اور اسلحہ موجود نہیں تھا، مگر انہوں نے دشمن کو مارا اور اسی کے اسلحے سے بھارت کا مقابلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان آسانی سے آزاد نہیں ہوا، یہ آزادی بڑی قربانیوں اور شہادتوں کے بعد نصیب ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی اس جنگ میں شامل رہے اور ان کے بیٹے بھی ملک کے لیے لڑنے کو تیار ہیں۔
حوالدار بیکو نے بتایا کہ دشمن نے ان پر حملہ کیا، مگر ان کے جوانوں نے بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے دشمن کو گھیر لیا اور اسے شکست فاش دی۔
لانس نائیک عبدالرشید نے کہا کہ انہوں نے تنخواہ یا عہدے کے لالچ کے بغیر صرف مادرِ وطن کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔
سپاہی تیغون شاہ نے بتایا کہ بزدل دشمن کی ایک سال پانچ ماہ کی قید اور اس دوران ناروا سلوک کے باوجود وہ آج بھی ان سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
ایکسپریس نیوز نے اس ویڈیو کو گلگت بلتستان کی جنگِ آزادی کی کہانی کے عنوان سے شائع کیا، جو پاکستان میں 1947ء کی اس مہم کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔ اس کے اسٹینڈ فرسٹ کے مطابق اس جنگ میں حصہ لینے والے شہدا اور غازیوں نے غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔
رپورٹ میں نہ تاریخ، نہ مقام اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ بیانات کس موقع پر ریکارڈ کیے گئے۔ کسی یونٹ کا نام، بیان کردہ کارروائیوں کی جگہ اور جانی نقصان کا کوئی عدد بھی درج نہیں۔ چاروں افراد کے صرف نام اور عہدے بتائے گئے ہیں؛ یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کسی رپورٹر سے بات کر رہے تھے، کسی رجمنٹ کی تاریخ کے لیے، یا کسی تقریب میں۔
اسی صفحے پر ایکسپریس نیوز کی الگ خبریں پٹرول کی قیمتوں کے تعین، ہزاروں سرکاری ملازمین کی رہائشوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی تیاری اور کراچی میں ایک ہلاکت خیز فائرنگ کے واقعے سے متعلق تھیں۔

گلگت بلتستان میں یومِ آزادی، گورنر اور وزیرِ اعلیٰ نے پرچم لہرایا
چنار باغ گلگت کی شہداء یادگار پر تقریب ہوئی، گورنر سید مہدی شاہ نے کہا آزادی کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے

ملک بھر میں خشک موسم، شمالی پہاڑوں پر برفباری کا امکان
گزشتہ 24 گھنٹوں میں سکردو کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت صفر ڈگری رہا، جو محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار میں لیہہ کے منفی 3 ڈگری کے بعد سب سے کم ہے۔

شمالی پاکستان میں بجلی کے چولہوں سے لکڑی کے اخراجات 60 فیصد کم، اے کے آر ایس پی
ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے ایک سال میں 50,000 سبسڈی والے چولہے تقسیم کیے، مگر رپورٹ میں اضلاع، فی چولہ قیمت یا بجلی کے بل کی تفصیل نہیں دی گئی۔

گلگت بلتستان میں یوم آزادی، چنار باغ میں پرچم کشائی کی تقریب
گورنر سید مہدی شاہ اور وزیراعلیٰ امجد حسین نے چنار باغ میں پرچم کشائی کی اور فاتحہ خوانی کی، تاہم سرکاری نشریاتی رپورٹ میں وزیراعلیٰ کا کوئی بیان شامل نہیں تھا۔