مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

قومی اسمبلی میں حکومت نے 200,000 ٹن کھاد کی کمی تسلیم کر لی

مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے گیس کی فراہمی متاثر ہونے پر دو یوریا پلانٹس عارضی طور پر بند ہیں، اور ملک کی تقریباً نصف کھاد درآمد کی جا رہی ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
قومی اسمبلی میں حکومت نے 200,000 ٹن کھاد کی کمی تسلیم کر لی

حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ملک کی طلب کے مقابلے میں کھاد کی 200,000 ٹن سے زیادہ کمی ہے، دو یوریا پلانٹس بند ہیں اور ملک کی تقریباً نصف ضرورت درآمدات سے پوری کی جا رہی ہے۔ یہ بات ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق سوالیہ دور کے دوران سامنے آئی۔

پارلیمانی سیکرٹری شائستہ خان نے ایوان کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث گیس کی فراہمی متاثر ہوئی، جس سے دو یوریا پلانٹس عارضی طور پر بند رہے۔ اس بندش کے نتیجے میں کھاد کی دستیابی طلب سے 200,000 ٹن سے زائد کم رہی اور مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار کا انحصار کھاد کی دستیابی پر ہے، اس لیے قیمتوں اور سپلائی میں کسی بھی قسم کا اضافہ یا کمی حکومت کے لیے تشویش کی بات ہے۔ ان کے مطابق ملک کی تقریباً 50 فیصد کھاد کی ضرورت بیرون ملک سے پوری کی جاتی ہے اور مشرق وسطیٰ کے بحران کی وجہ سے کھاد کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس کمی سے کاشتکاری کے بڑھتے اخراجات کے دوران کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

شائستہ خان نے کہا کہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کسانوں کی ضروریات کو ترجیح دیتی ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن میں آسان قرضوں کی فراہمی بھی شامل ہے تاکہ کسان اپنی زرعی ضروریات پوری کر سکیں۔

ایک ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گندم میں ریت اور مٹی ملا کر فروخت کیے جانے کے معاملے پر متعلقہ وزیر ناقص گندم کی سپلائی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے متاثرہ اضلاع یا کارروائی کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی۔

بیج کی ترقی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) میں نئی اقسام پر تحقیق جاری ہے۔ ان کے مطابق گندم کی ایسی اقسام پر بھی کام ہو رہا ہے جو پانی کی کمی کی صورتحال کے لیے موزوں ہوں، تاکہ زرعی شعبہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کر سکے۔

معیشت

پاکستان نے جی-24 کی صدارت سنبھال لی، اورنگزیب کا مالیاتی اصلاحات پر زور

وزیر خزانہ نے صدارت کے لیے تین ترجیحات بتائیں: ترقی کو عالمی اقتصادی پالیسی کا مرکز بنانا، ترقی پذیر معیشتوں کی نمائندگی مضبوط کرنا اور بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات۔

معیشت

گروپ آف 24 کی سربراہی پاکستان کے عالمی کردار کا اعتراف: وزیر اعظم

اردو پوائنٹ نے وزیر اعظم کا بیان بغیر متن کے شائع کیا، جبکہ ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان 2027ء میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز کی سربراہی کرے گا۔

معیشت

مہنگائی کے باوجود صارفی اشیاء بنانے والی کمپنیوں کی فروخت میں اضافہ

ڈان کے مطابق نستلے پاکستان کی نو ماہ کی خالص فروخت 160 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے سے 6.3 فیصد زیادہ ہے، تاہم کچھ کمپنیاں سالانہ پیش گوئی کے بارے میں محتاط ہیں۔

سیاست

بچوں کی سوشل میڈیا رسائی: وفاقی آئینی عدالت چھ نومبر کو درخواست سنے گی

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس عوامی مفاد کی درخواست کی سماعت کرے گا، جسے رجسٹرار آفس نے پہلے قابلِ سماعت نہیں قرار دیا تھا۔