مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

گروپ آف 24 کی سربراہی پاکستان کے عالمی کردار کا اعتراف: وزیر اعظم

اردو پوائنٹ نے وزیر اعظم کا بیان بغیر متن کے شائع کیا، جبکہ ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان 2027ء میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنرز کی سربراہی کرے گا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ

وزیر اعظم شہباز شریف نے گروپ آف 24 کی چیئرمین شپ کو اہم سفارتی سنگ میل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عالمی اقتصادی منظرنامے پر پاکستان کے مؤثر کردار کا اعتراف ہے۔ یہ بات اردو پوائنٹ کی رپورٹ میں ان کی طرف منسوب کی گئی ہے۔

اردو پوائنٹ نے یکم نومبر کو یہ بیان سرخی کے طور پر شائع کیا۔ رپورٹ میں وزیر اعظم کے بیان کا مکمل متن، تقریر کا مقام یا اس عہدے کی مدت درج نہیں تھی۔

گروپ آف 24 ترقی پذیر ممالک کی ایسی تنظیم ہے جو بین الاقوامی مالیاتی اور ترقیاتی امور پر اپنے مؤقف میں رابطہ کاری کرتی ہے۔

ایکسپریس نیوز نے اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک الگ مضمون میں بتایا کہ پاکستان کو 2027ء کے لیے عالمی بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے بورڈ آف گورنرز کی سربراہی دی گئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ اعلان اکتوبر 2026ء میں بنکاک میں دونوں اداروں کے سالانہ اجلاسوں میں کیا گیا، اور 1953ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کو یہ ذمہ داری ملی ہے۔

مضمون میں اسے ایک اہم سفارتی اور ادارہ جاتی اعزاز کہا گیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق بورڈ آف گورنرز کی سربراہی کا مطلب ان اداروں کی پالیسیوں پر یکطرفہ اختیار نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی ادارہ جاتی ذمہ داری ہے جس کی کامیابی مشاورت اور مؤثر رابطہ کاری پر منحصر ہوگی۔ مضمون کے مطابق یہ عہدہ پاکستان کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے بوجھ، ترقیاتی مالیات اور عالمی اقتصادی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کرے۔

ایکسپریس نیوز نے یہ تحریر خبر کی بجائے تجزیے کے انداز میں شائع کی۔ اس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا عام پاکستانی کی زندگی پر کیا اثر پڑ رہا ہے، اور قرضوں کا دباؤ، مہنگائی، توانائی کے مسائل، بے روزگاری، برآمدات میں محدود اضافہ اور سرمایہ کاری کی کمی کو ملک کے بنیادی چیلنجز قرار دیا گیا۔

تحریر میں دلیل دی گئی کہ عالمی مالیاتی اداروں کے بورڈز کی سربراہی اور ملکی معاشی مسائل کا پائیدار حل دو الگ معاملات ہیں۔ مضمون کے مطابق پاکستان کو بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنا، برآمدات بڑھانا، صنعتی پیداوار کو فروغ دینا، ٹیکس نظام میں اصلاحات لانا اور حکومتی اخراجات میں نظم و ضبط لانا ہوگا۔

مضمون میں یہ بھی کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال نے پاکستان کی سفارت کاری کو نئی اہمیت دی ہے، اور نوجوان آبادی ملک کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے بشرطیکہ اسے معیاری تعلیم، جدید مہارتیں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

معیشت

پاکستان نے جی-24 کی صدارت سنبھال لی، اورنگزیب کا مالیاتی اصلاحات پر زور

وزیر خزانہ نے صدارت کے لیے تین ترجیحات بتائیں: ترقی کو عالمی اقتصادی پالیسی کا مرکز بنانا، ترقی پذیر معیشتوں کی نمائندگی مضبوط کرنا اور بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات۔

معیشت

قومی اسمبلی میں حکومت نے 200,000 ٹن کھاد کی کمی تسلیم کر لی

مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے گیس کی فراہمی متاثر ہونے پر دو یوریا پلانٹس عارضی طور پر بند ہیں، اور ملک کی تقریباً نصف کھاد درآمد کی جا رہی ہے۔

معیشت

مہنگائی کے باوجود صارفی اشیاء بنانے والی کمپنیوں کی فروخت میں اضافہ

ڈان کے مطابق نستلے پاکستان کی نو ماہ کی خالص فروخت 160 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے سے 6.3 فیصد زیادہ ہے، تاہم کچھ کمپنیاں سالانہ پیش گوئی کے بارے میں محتاط ہیں۔

سیاست

بچوں کی سوشل میڈیا رسائی: وفاقی آئینی عدالت چھ نومبر کو درخواست سنے گی

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس عوامی مفاد کی درخواست کی سماعت کرے گا، جسے رجسٹرار آفس نے پہلے قابلِ سماعت نہیں قرار دیا تھا۔