پنجاب میں گرمی سے کپاس کے بیج کا اگاؤ 30 فیصد تک گر گیا
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین نے بتایا کہ زیادہ درجہ حرارت سے کپاس کے پھول وقت سے پہلے کھل گئے اور آنے والی فصل کے لیے تصدیق شدہ بیج کی کمی کا خدشہ ہے۔

پنجاب کے کپاس کے علاقوں میں شدید گرمی نے اس سیزن میں بیج کے اگاؤ کو تقریباً 30 فیصد تک گرا دیا ہے، جب کہ عام شرح 70 فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔ ڈان نے 24 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ اس کمی سے 2026-27 کی کپاس کی فصل کے لیے تصدیق شدہ بیج کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور اگلے سیزن کی بوائی متاثر ہو سکتی ہے۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے ڈان کو بتایا کہ کپاس کے اہم علاقوں میں درجہ حرارت 40 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جب کہ صحت مند اگاؤ کے لیے تقریباً 30 ڈگری درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی گرمی کی وجہ سے کپاس کے پھول وقت سے پہلے کھل گئے۔
عام حالات میں مناسب درجہ حرارت پر بیج کا اگاؤ 70 فیصد سے اوپر رہتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سال یہ شرح 30 فیصد کے قریب گر گئی۔
رپورٹ میں درجہ حرارت میں اضافے کو بے مثال قرار دیا گیا۔ اس میں متاثرہ رقبے یا خطرے میں پڑنے والے بیج کی مقدار کے الگ اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔ یو اے نیوز نے بھی ڈان کی یہی رپورٹ شائع کی، لیکن کوئی نیا مواد شامل نہیں کیا۔
بیج کا اگاؤ کپاس کی فصل کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ اگر اگاؤ ناکام ہو جائے تو کسانوں کو اضافی لاگت سے دوبارہ کاشت کرنا پڑتی ہے یا کم پودوں کی تعداد قبول کرنی پڑتی ہے، جس سے حتمی پیداوار کم ہو سکتی ہے۔ معیاری بیج خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اگلی فصل کی بوائی موجودہ فصل سے جمع کیے گئے بیج پر منحصر ہوتی ہے۔
کپاس پاکستان کی اہم ترین غیر غذائی نقد فصل ہے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے بنیادی خام مال فراہم کرتی ہے۔ ملک کی زیادہ تر کپاس پنجاب میں پیدا ہوتی ہے، اس لیے بیج کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ قومی تشویش بن جاتی ہے۔
احسان الحق کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین ہیں، جو صوبے بھر کی جننگ فیکٹریوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے یہ تاثرات ڈان کو کپاس کے سیزن کے فصل کی کٹائی کی جانب بڑھنے کے دوران دیے گئے۔
یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پنجاب اگلے کپاس کے چکر کی تیاری کر رہا ہے۔ تصدیق شدہ بیج بوائی کے لیے اہم ان پٹ ہے اور کوئی قلت کسانوں کو غیر تصدیق شدہ بیج کی طرف دھکیل سکتی ہے یا بوائی میں تاخیر کر سکتی ہے، تاہم رپورٹ میں ممکنہ قلت کی مقدار یا امدادی اقدامات کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

فخر زمان کی 127 رنز کی بدولت پاکستان سہ ملکی سیریز کا فاتح
پاکستان نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں 326 رنز کا ہدف 48.3 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر مکمل کیا، جبکہ ابتدائی چار اوورز میں دو وکٹیں گر گئی تھیں۔

سیالکوٹ میں مہندی کی تقریب میں بھگدڑ، ایک ہلاک، 14 سے زائد زخمی
ڈسکہ روڈ پر فراز کرکٹ گراؤنڈ کے دروازے کھلتے ہی افراتفری پھیلی، جہاں ٹک ٹاکر محمد انصار جٹ 50 موٹر سائیکل، ایک گاڑی اور نقد انعامات دینے والے تھے۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی مسترد کر دی
ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ معاہدے کی حیثیت بین الاقوامی قانون کے تحت طے ہونی چاہیے، جبکہ اٹارنی جنرل نے بھارت کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

پنجاب میں ڈاکٹروں اور ہسپتال کے عملے کے لیے وردی لازمی قرار
کمیشن کی ہدایت کے مطابق ڈاکٹروں کی وردی نیلی، پیرا میڈیکل عملے کی سبز اور لیبارٹری عملے کے لیے سفید کوٹ مقرر کیا گیا ہے