مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

آئی ایم ایف نمائندے کا پاکستان پر زور: ٹیکس کی بنیاد وسیع کریں، توانائی شعبے کی اصلاحات کریں

مائر بنیچی کا کہنا ہے کہ میکرو اکنامک استحکام کافی نہیں، صوبائی ٹیکس وصولی، گورننس اور کاروباری لاگت میں کمی ضروری ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
آئی ایم ایف نمائندے کا پاکستان پر زور: ٹیکس کی بنیاد وسیع کریں، توانائی شعبے کی اصلاحات کریں
تصویر: Associated Press of Pakistan

آئی ایم ایف کے پاکستان میں ریذیڈنٹ ریپریزنٹیٹو ڈاکٹر مائر بنیچی نے جمعرات کو کہا کہ ملک کو میکرو اکنامک استحکام سے آگے بڑھ کر گہری ساختی اصلاحات کرنی ہوں گی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق انہوں نے چار شعبے گنوائے: صوبائی ٹیکس وصولی، گورننس میں بہتری، توانائی کے شعبے کی تنظیم نو اور کاروبار کی لاگت میں کمی۔ اے پی پی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں اور کس سے مخاطب تھے۔

ایکسپریس ٹریبیون نے بھی یہی ریمارکس شائع کیے اور اپنی سرخی میں انہیں آئی ایم ایف کا کنٹری ہیڈ کہا، جبکہ مرکزی موضوع ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے اور ترقی پر مبنی اصلاحات کو بنایا۔ اخبار کے مطابق بنیچی نے کہا کہ پاکستان کو آسان اور منصفانہ ٹیکس نظام چاہیے جو ترقی اور سرمایہ کاری کی مالی اعانت کر سکے۔

دونوں رپورٹوں میں ٹیکس نظام کو اصلاحات کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔ صوبائی ٹیکس وصولی سے مراد وہ محصولات ہیں جو چاروں صوبائی حکومتیں خود جمع کرتی ہیں، نہ کہ وفاق کے وصول کردہ۔

اے پی پی نے چاروں اصلاحی شعبے گنوائے لیکن کوئی اعداد و شمار، کوئی ٹائم ٹیبل یا ریمارکس کا متن نہیں دیا، اور یہ بھی نہیں بتایا کہ توانائی کی تنظیم نو یا کاروباری لاگت میں کمی سے کیا مراد ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں بھی کوئی ہندسہ نہیں تھا۔

ان ریمارکس میں حکومت کو کسی اقدام کا پابند نہیں کیا گیا، اور کسی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کی شرائط پر بات ہوئی یا نہیں۔

کسی رپورٹ میں یہ بھی درج نہیں کہ بنیچی کس تقریب سے خطاب کر رہے تھے اور نہ یہ کہ حکومت نے کوئی ردعمل دیا ہے۔ دونوں رپورٹیں جمعرات 5 نومبر کو شائع ہوئیں۔

رپورٹوں میں فرق

ایکسپریس ٹریبیون نے ٹیکس کی بنیاد کو مرکزی موضوع بنایا، بنیچی کے اس مطالبے کو نقل کیا کہ آسان اور منصفانہ ٹیکس نظام ترقی اور سرمایہ کاری کی مالی اعانت کرے، اور سرخی میں انہیں آئی ایم ایف کا کنٹری ہیڈ کہا۔ اے پی پی نے اصلاحات کی وسیع فہرست کو نمایاں کیا، یعنی صوبائی ٹیکس وصولی، گورننس، توانائی کی تنظیم نو اور کاروباری لاگت، اور ان کا عہدہ ریذیڈنٹ ریپریزنٹیٹو in پاکستان بتایا۔ کسی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ ریمارکس کہاں اور کس سے کیے گئے۔

معیشتاسلام آبادرپورٹوں میں فرق

اورنگزیب نے سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر قرض کی رول اوور کی تصدیق کردی

وزیر خزانہ نے کہا کہ ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں اور آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس دسمبر میں ہو سکتا ہے، تاہم تاریخ طے نہیں۔

معیشترپورٹوں میں فرق

حکومت نے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا جماعت اسلامی کا مطالبہ مسترد کر دیا

لیاقت بلوچ کے مطابق اسحاق دار کے ساتھ مذاکرات میں کسانوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور بعض گاڑیوں کو ایندھن میں ریلیف دینے پر اتفاق ہوا، لیوی ختم کرنے کا کوئی وعدہ نہیں ہوا۔

معیشت

پاکستان نے جی 24 کی سربراہی سنبھال لی، اورنگزیب نے تین ترجیحات بتا دیں

وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ترقی کو عالمی معاشی پالیسی سازی کے مرکز میں رکھا جائے گا، جبکہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف میں اصلاحات دوسری ترجیح ہوں گی۔

معیشت

پاکستان نے جی-24 کی صدارت سنبھال لی، اورنگزیب کا مالیاتی اصلاحات پر زور

وزیر خزانہ نے صدارت کے لیے تین ترجیحات بتائیں: ترقی کو عالمی اقتصادی پالیسی کا مرکز بنانا، ترقی پذیر معیشتوں کی نمائندگی مضبوط کرنا اور بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات۔

سیاست

سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ صدارتی دستاویز منظور کر لی

دفتر خارجہ کے مطابق یہ صدارتی بیان قرارداد 2788 (2025) پر مبنی ہے جو جولائی 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران منظور ہوئی تھی، اور جنگ شروع ہونے کے بعد ثالثی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

معیشترپورٹوں میں فرق

وزیراعظم نے ایل پی جی کوٹے کی تقسیم کا طریقہ کار پیش کر دیا

ڈان کی رپورٹ کے مطابق تقسیم کو شفاف قرار دیا گیا ہے، تاہم کوٹے کا فارمولا، حجم یا اعلان کی جگہ نہیں بتائی گئی

معیشترپورٹوں میں فرق

اپنا گھر اسکیم کے تحت 104 ارب روپے کے قرضے جاری، وزارت خزانہ

وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق 30 اکتوبر 2026 تک 17,697 خاندانوں کو رہائشی قرضے ملے، جبکہ 2 لاکھ 20 ہزار 715 درخواستوں میں سے 90,405 منظور ہوئیں اور 533 ارب روپے کے قرضے منظور ہوئے۔

تعلیم

حکومت نے آئی ٹی سرٹیفکیشن معاوضہ پروگرام کے لیے رجسٹریشن کھول دی

پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے تحت چلنے والے اس پروگرام میں اہل گریجویٹس اور پیشہ ور افراد ایمیزون ویب سروسز، مائیکروسافٹ، گوگل، سسکو اور اوریکل کے امتحانات پر 70,000 روپے تک واپس لے سکتے ہیں۔