اپنا گھر اسکیم کے تحت 104 ارب روپے کے قرضے جاری، وزارت خزانہ
وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق 30 اکتوبر 2026 تک 17,697 خاندانوں کو رہائشی قرضے ملے، جبکہ 2 لاکھ 20 ہزار 715 درخواستوں میں سے 90,405 منظور ہوئیں اور 533 ارب روپے کے قرضے منظور ہوئے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 30 اکتوبر 2026 تک 104 ارب روپے کے کم لاگت رہائشی قرضے جاری کیے جا چکے ہیں اور یہ رقم 17,697 خاندانوں تک پہنچ چکی ہے۔ وزارت کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی 100 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
وزارت نے منظور شدہ قرضوں کی مالیت 533 ارب روپے بتائی ہے، یعنی اب تک منظور شدہ قرضوں میں سے 104 ارب روپے 30 اکتوبر تک ادا کیے جا چکے تھے۔ وزارت کے مطابق 2 لاکھ 20 ہزار 715 درخواستیں موصول ہوئیں اور 90,405 منظور ہوئیں، جو موصولہ درخواستوں کا 41 فیصد بنتا ہے۔
جون 2026 کے مقابلے میں قرضوں کی فراہمی میں 404 فیصد اضافہ ہوا اور یہ رقم 21 ارب روپے سے بڑھ کر 104 ارب روپے ہو گئی۔ انہی چھ ماہ میں منظور شدہ قرضوں کی مالیت 269 فیصد بڑھ کر 144 ارب روپے سے 533 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
وزارت نے کہا کہ پروگرام کے باضابطہ آغاز کے بعد گزشتہ چھ ماہ میں کم لاگت رہائشی قرضوں کی فراہمی میں سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا۔ وزارت کے مطابق حکومت کے وعدے اب زمین پر نتائج کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں اور درخواست دہندگان کے لیے منظور شدہ قرض اور مکمل گھر کے درمیان فاصلہ کم ہو رہا ہے۔
جون 2026 وہ بنیادی مہینہ ہے جس سے وزارت نے دونوں اضافوں کی پیمائش کی، اور قرضوں کی فراہمی اور منظوری کے اعداد و شمار 30 اکتوبر 2026 تک کے ہیں۔
وزارت خزانہ نے یہ اعداد و شمار اپنا گھر پروگرام سے متعلق ایک تحریری بیان میں جاری کیے۔
رپورٹوں میں فرق
دونوں رپورٹس الگ الگ واقعات کی تھیں۔ اردو پوائنٹ نے مولانا فضل الرحمان کے اس بیان کو نمایاں کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف بے بس ہیں، اور 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور 27ویں ترمیم پر ان کی تنقید کو سامنے رکھا۔ ایکسپریس نیوز نے وزارت خزانہ کے اپنا گھر اسکیم کے اعداد و شمار شائع کیے، جن کا اردو پوائنٹ کی رپورٹ میں ذکر نہیں تھا۔

مریم نواز نے اپنی چھت اپنا گھر اسکیم کے لیے نئی درخواستیں منظور کر لیں
لاہور میں ہونے والے جائزے کے اجلاس میں بتایا گیا کہ 128,718 مکانات مکمل ہو چکے ہیں اور 17 لاکھ سے زیادہ افراد پورٹل پر رجسٹرڈ ہیں۔

وزیر اعظم کا ایس ایم ایز اور کسانوں کو سست قرضے دینے والے بینکوں کے خلاف کارروائی کا حکم
اسلام آباد میں قرضوں کے جائزے کے اجلاس میں وزیر اعظم نے وزیر خزانہ کو جامع لائحہ عمل بنانے اور مالی سال 2027 تک 1,500 ارب روپے کے ہدف کی ہدایت دی۔

قرضوں میں تاخیر پر بینکوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک اور وزارتِ خزانہ کو کہا کہ آپنا گھر، زراعت اور چھوٹے کاروبار کے قرضوں میں سستی کرنے والے بینکوں کو کوئی رعایت نہ دی جائے۔

وزیر خزانہ کا ایس ایم ای اور زراعت کے قرضوں کی تقسیم تیز کرنے پر زور
ایکسس ٹو فنانس کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ زرخیز اسکیم کے تحت 8.674 ارب روپے کے قرضے منظور ہوئے مگر چھوٹے کسانوں کو صرف 2.34 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔

آئی ایم ایف نمائندے کا پاکستان پر زور: ٹیکس کی بنیاد وسیع کریں، توانائی شعبے کی اصلاحات کریں
مائر بنیچی کا کہنا ہے کہ میکرو اکنامک استحکام کافی نہیں، صوبائی ٹیکس وصولی، گورننس اور کاروباری لاگت میں کمی ضروری ہے۔

سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ صدارتی دستاویز منظور کر لی
دفتر خارجہ کے مطابق یہ صدارتی بیان قرارداد 2788 (2025) پر مبنی ہے جو جولائی 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران منظور ہوئی تھی، اور جنگ شروع ہونے کے بعد ثالثی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

وزیراعظم نے ایل پی جی کوٹے کی تقسیم کا طریقہ کار پیش کر دیا
ڈان کی رپورٹ کے مطابق تقسیم کو شفاف قرار دیا گیا ہے، تاہم کوٹے کا فارمولا، حجم یا اعلان کی جگہ نہیں بتائی گئی

حکومت نے آئی ٹی سرٹیفکیشن معاوضہ پروگرام کے لیے رجسٹریشن کھول دی
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے تحت چلنے والے اس پروگرام میں اہل گریجویٹس اور پیشہ ور افراد ایمیزون ویب سروسز، مائیکروسافٹ، گوگل، سسکو اور اوریکل کے امتحانات پر 70,000 روپے تک واپس لے سکتے ہیں۔