مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

درآمدی گندم پہنچ گئی، آٹے کی قیمتیں پھر بھی بلند

کھلے بازار میں گندم 10 روپے کلو سستی ہونے کے باوجود آٹے، نان اور چپاتی کے صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑا، چکی مالکان اور ہول سیلر اب بھی الگ الگ ریٹ بتا رہے ہیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
درآمدی گندم پہنچ گئی، آٹے کی قیمتیں پھر بھی بلند
تصویر: ProPakistani

کراچی: کراچی بندرگاہ پر 28 اکتوبر کو 51 ہزار ٹن درآمدی گندم کی پہلی کھیپ اترنے کے بعد کھلے بازار میں گندم کی قیمت 140 روپے کلو سے کم ہو کر 130 روپے کلو ہو گئی، مگر صارفین آٹے، نان اور چپاتی کے لیے پرانی قیمتیں ہی ادا کر رہے ہیں۔ یہ ریٹ ڈان اور پروپاکستانی کے شائع کردہ اعداد کے مطابق ہیں۔

دوسرا جہاز 58,132 ٹن گندم لے کر منگل 3 نومبر کو کراچی پہنچنا تھا۔

تاجروں کے ریٹ اب بھی مختلف ہیں۔ ہول سیلر اوسط قیمت 132 روپے کلو بتاتے ہیں جبکہ آٹا چکی مالکان 136 سے 137 روپے کلو کے ریٹ بتاتے ہیں، پروپاکستانی کے مطابق۔

چکیوں کی قیمتیں اکتوبر کے شروع سے کم ہوئی ہیں۔ فلور نمبر 2.5، میدہ اور فائن آٹا چکی سے 156، 168 اور 171 روپے کلو مل رہا ہے، جو اکتوبر کے پہلے ہفتے میں 161، 173 اور 176 روپے تھا۔ پروپاکستانی کے مطابق چکی مالکان نے پہلے آٹے کی قیمت 20 روپے کلو بڑھائی تھی اور پھر درآمدی گندم آنے سے پہلے کم کر دی۔

پرچون پر اثر نہیں پہنچا۔ فلور نمبر 2.5 170 سے 180 روپے کلو، میدہ 185 سے 190 روپے کلو اور فائن آٹا بھی 185 سے 190 روپے کلو پر فروخت ہو رہا ہے۔

تندور کی قیمتیں بھی نہیں بدلیں: چپاتی 20 روپے، نان 30 سے 35 روپے، اور شیرمال، تافتان اور کلچہ 90 سے 110 روپے۔ ایک تندور مالک نے پروپاکستانی کو بتایا کہ 500 سے 550 روپے کلو مائع پیٹرولیم گیس نے سستے آٹے کا فائدہ ختم کر دیا ہے، اور گیس کی قیمت مزید بڑھنے پر تندور چلانا مشکل ہو جائے گا۔

ہول سیلر رؤف ابراہیم نے کہا کہ کھلے بازار میں گندم سستی ہونے کے باوجود ریگولیٹرز پرچون قیمتیں قابو میں نہیں لا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 750,000 ٹن کی منصوبہ بند درآمد اس کمی کو پورا نہیں کرے گی جسے وہ مارچ سے مئی کے درمیان سندھ اور پنجاب کی فصل آنے تک 20 لاکھ ٹن سے زیادہ بتاتے ہیں، اور حکومت سے کہا کہ نجی کمپنیوں اور چکی مالکان کو گندم درآمد کرنے دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہانہ 50 ہزار روپے سے کم کمانے والے مزدور کھانے کا خرچ بھی مشکل سے پورا کر رہے ہیں۔

حساس قیمت انڈیکس کے 29 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے اعداد کے مطابق آٹے کی سب سے زیادہ قیمتیں کراچی اور حیدرآباد میں ہیں۔ کراچی میں 20 کلو کا تھیلا 3,540 روپے تک کا ملتا ہے جبکہ ملک بھر میں اوسط 3,200 روپے ہے، اور حیدرآباد میں 3,360 سے 3,400 روپے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں 20 کلو تھیلا 2,200 سے 3,333 روپے کے درمیان ہے۔

10 کلو گندم کے تھیلے کی سب سے زیادہ قیمت سکھر میں 1,488 روپے، پشاور میں 1,469، حیدرآباد میں 1,453، اسلام آباد اور راولپنڈی میں اوسط 1,453 اور کراچی میں 1,440 روپے رہی۔ سب سے کم سرگودھا میں 1,223، بہاولپور میں 1,266 اور فیصل آباد و سیالکوٹ میں 1,300 روپے۔

فائن آٹا حیدرآباد اور کوئٹہ میں سب سے مہنگا 187 روپے کلو، پھر کراچی میں 185 اور اسلام آباد میں 183 روپے، جبکہ دیگر شہروں میں 147 سے 180 روپے کلو رہا۔ ایک چکی مالک نے کہا کراچی میں قیمت زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ شہر میں گندم نہیں اگتی اور سپلائی سندھ کے دیگر علاقوں سے آتی ہے۔

رپورٹوں میں فرق

ڈان نے اس پر زور دیا کہ صارفین آٹے اور روٹی کی بلند قیمتیں ادا کر رہے ہیں، کھلے بازار میں قیمت 130 روپے کلو بتائی اور کہا کہ دوسرا جہاز "آج (منگل)" پہنچنا ہے۔ پروپاکستانی نے دوسرے جہاز کی آمد 3 نومبر بتائی اور شہر وار حساس قیمت انڈیکس کے اعداد، تندور مالک کے ایل پی جی اخراجات اور ہول سیلر کی اس تنبیہ کے ساتھ شائع کیا کہ درآمد کمی پوری نہیں کرے گی۔ پروپاکستانی نے ایک چکی مالک کے حوالے سے لکھا کہ چکیوں نے 28 اکتوبر کو قیمتیں کم کیں، یعنی جہاز پہنچنے سے دو دن پہلے، جبکہ دونوں رپورٹوں کے مطابق جہاز 28 اکتوبر ہی کو کراچی پہنچا۔

معیشت

ہفتہ وار افراطِ زر 0.35 فیصد کم، ٹماٹر اور ڈیزل مہنگے

پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق اشاریہ 374.84 سے 373.51 پوائنٹس پر آ گیا، ٹماٹر ایک ہفتے میں 34.91 فیصد مہنگا ہوا جبکہ سالانہ مہنگائی 11.32 فیصد رہی۔

معیشت

پالیسی ریٹ میں اضافے کے باوجود انڈیکس 164,000 سے اوپر بند

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق بینچ مارک انڈیکس 1,428.73 پوائنٹس یعنی 0.88 فیصد بڑھ کر 164,467.20 پر بند ہوا، جب اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کیا۔

معیشتسندھ

عالمی و علاقائی جھٹکوں کے باوجود معاشی بنیادیں بہتر ہوئیں: ایس بی پی گورنر

کراچی میں آئی سی ایم اے پی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب میں جیمل احمد نے کہا کہ افراطِ زر ہدف کے قریب ہے اور ترقی بحال ہو رہی ہے، مگر قلیل مدتی حل سے خبردار کیا۔

سیاستسندھ

سندھ میں شراب کی فروخت قانونی پابندیوں کے باوجود جاری

اے آر وائی نیوز کے مطابق صوبے میں تقریباً 150 لائسنس یافتہ دکانیں ہیں، جن میں سے قریب 70 کراچی میں ہیں، اور 2022 میں شراب پر ڈیوٹی سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 55 فیصد اضافہ ہوا۔

ترقیسندھ

گل پلازہ کی مسماری کے لیے ٹھیکیداروں سے بولیاں طلب

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے 20 نومبر تک تکنیکی اور مالی تجاویز جمع کرانے کی شرط رکھی ہے، ایسی عمارت کے لیے جس میں 17 جنوری کی آگ نے 73 سے زائد جانیں لیں۔

معیشتسندھ

لیاری میں لوڈشیڈنگ: جماعت اسلامی کا کے الیکٹرک کے آڈٹ کا مطالبہ

جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر کا کہنا ہے کہ لیاری کے بعض علاقوں میں چوبیس گھنٹے میں صرف چار سے چھ گھنٹے بجلی آتی ہے، اور 25.28 ارب روپے کے منصوبے کا حساب مانگا ہے۔

ترقیسندھ

کراچی کے ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن کی جدید کاری کا منصوبہ

ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ جمشید عالم نے مجوزہ ڈیزائن کا جائزہ لے کر افسران کو انتظامات حتمی کرنے کی ہدایت دی، تاہم لاگت یا مدت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

تعلیمسندھ

سندھ میں اسکول وینز میں گیس سلنڈروں پر پابندی، فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی

محکمہ تعلیم نے نجی اسکولوں کو جاری نوٹیفکیشن میں بوتلوں سے پٹرول ڈالنے اور گنجائش سے زیادہ بچے بٹھانے پر بھی پابندی عائد کی ہے