اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت مسترد کر دی
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے غیر حاضر رہنے والے رہنماؤں کی درخواستیں مسترد کیں، جبکہ پیش ہونے والے کارکنوں کی عبوری ضمانت 11 فروری تک بڑھا دی گئی۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جمعرات کو بشریٰ بی بی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کئی رہنماؤں کی ضمانتِ قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ یہ مقدمات احتجاج کے سلسلے میں درج کیے گئے تھے اور درخواست گزار عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
منٹ مرر کی رپورٹ کے مطابق جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے احتجاج سے متعلق مقدمات میں دائر کی گئی مجموعی طور پر 250 ضمانتوں کی درخواستیں سنیں۔ رپورٹ کے مطابق عدالت نے بشریٰ بی بی، جنید اکبر، لطیف کھوسہ، نعیم پنجوتھا، اسد قیصر، علی زمان، ایمان وسیم، عاطف خان اور فضل محمد کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے بھی انہی درخواستوں کے مسترد ہونے کی خبر دی اور بشریٰ بی بی، اسد قیصر، جنید اکبر، لطیف کھوسہ اور نعیم حیدر پنجوتھا کا نام لیا۔ اس رپورٹ کے مطابق درخواستیں اس لیے مسترد ہوئیں کہ درخواست گزار مسلسل کارروائی میں پیش نہیں ہو رہے تھے۔ دونوں رپورٹس اس بات پر متفق ہیں کہ غیر حاضری کی وجہ سے درخواستیں مسترد کی گئیں۔
جج کا نام، عدالت میں زیرِ سماعت درخواستوں کی تعداد 250 اور مسترد شدہ نو رہنماؤں کی فہرست صرف منٹ مرر کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔ دونوں ذرائع نے سماعت جمعرات کو بتائی۔
منٹ مرر کے مطابق پی ٹی آئی رہنما رؤف حسن اور شہریار آفریدی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی حاضری درج کرائی۔ عدالت نے پیش ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں کی عبوری ضمانت 11 فروری تک بڑھا دی، جبکہ غیر حاضر رہنے والوں کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
ان احکامات کے بعد مسترد شدہ درخواستوں والے رہنماؤں کے پاس ان مقدمات میں ضمانتِ قبل از گرفتاری کا تحفظ نہیں رہا۔ یہ فیصلہ عدالت کے سامنے موجود درخواستوں سے متعلق ہے؛ کسی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مزید درخواستیں زیرِ سماعت ہیں یا مسترد شدہ رہنما آگے کیا طریقہ اختیار کریں گے۔
کسی رپورٹ میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ یہ مقدمات کن احتجاجات سے متعلق ہیں، ہر رہنما کے خلاف کتنے مقدمات ہیں، یا وہ کون سی دفعات کے تحت درج ہیں۔ کسی رپورٹ میں پی ٹی آئی یا استغاثہ کا بیان بھی شامل نہیں ہے۔
بشریٰ بی بی سابق وزیرِاعظم عمران خان کی اہلیہ ہیں۔ اسد قیصر اور جنید اکبر پی ٹی آئی کے ارکانِ اسمبلی ہیں، جبکہ لطیف کھوسہ اور نعیم حیدر پنجوتھا قانونی معاملات میں پارٹی کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔