پشاور: مفتی محمود مرکز گرانے کے خدشے پر جے یو آئی رضاکار جمع
مرکز کے نگران مولانا احمد درویش کا کہنا ہے کہ عمارت کا نقشہ پی ڈی اے سے منظور شدہ ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ کارروائی کیسے کر سکتی ہے۔
پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مفتی محمود مرکز کو گرائے جانے کے خدشے کے پیش نظر پارٹی کے رضاکار عمارت کے گرد جمع ہو گئے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عمارت کے خلاف ممکنہ کارروائی کی بات سامنے آئی تھی، تاہم رپورٹ میں کسی نوٹس یا انہدام کے حکم کا ذکر نہیں ہے۔
مرکز کے نگران مولانا احمد درویش نے کہا کہ اس عمارت کا نقشہ پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) سے باقاعدہ منظور کرایا گیا ہے، اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اب اس کے خلاف آپریشن کیسے کرے گی۔ انہوں نے پوچھا کہ جب نقشہ منظور ہوا تو اس وقت انہیں کیوں نہیں بتایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس موقع پر سابق ناظم زبیر علی بھی جے یو آئی کے رضاکاروں کے ساتھ موجود تھے۔
مولانا احمد درویش نے کہا کہ لوگوں سے کاروبار چھینا جا رہا ہے اور غریب عوام کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے سالاروں اور کارکنوں کے ساتھ آج یہاں بیٹھے ہیں اور ضلعی انتظامیہ آ کر خود دیکھ لے۔ ہم نے کوئی تجاوز نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو سڑک بند ہے وہ حکومت نے سیکیورٹی کی وجہ سے بند کی ہے۔
رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ یا پی ڈی اے کے کسی افسر کا بیان شامل نہیں، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ کسی کارروائی کا وقت یا سبب کیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ حکام نے کوئی کارروائی کا اعلان کیا ہے یا نہیں۔
جے یو آئی (ف) ملک کی بڑی مذہبی سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے اور خیبر پختونخوا میں اس کی تنظیمی موجودگی پرانی ہے، جہاں پشاور اس کی سرگرمیوں کے مراکز میں سے ایک ہے۔ مفتی محمود مرکز صوبائی دارالحکومت میں پارٹی کی ملکیت میں شامل عمارت ہے۔
رپورٹس میں عمارت کے بارے میں ضلعی انتظامیہ کا موقف یا پارٹی اور حکام کے درمیان اس معاملے پر کسی سابقہ خط و کتابت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔