خیبر پختونخوا کابینہ نے ترمیم شدہ پولیس ایکٹ 2026 منظور کر لیا
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ نیا قانون پولیس کی پالیسی کو آپریشنز سے الگ کرتا ہے اور ناقص کارکردگی پر وفاقی افسران واپس بھیجنے کا اختیار دیتا ہے۔

پشاور: خیبر پختونخوا کابینہ نے بدھ کو ترمیم شدہ خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2026 منظور کر لیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یہ منظوری 59ویں کابینہ اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کی۔ اراکین کابینہ کے تحفظات دور کرنے کے لیے مجوزہ قانون میں ترامیم شامل کی گئیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات سائنس ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے میڈیا کو بتایا کہ یہ قانون پولیس نظام میں اہم اصلاحات کی جانب قدم ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق نئے قانون کے تحت صوبائی حکومت غیر تسلی بخش کارکردگی کی صورت میں انسپکٹر جنرل سمیت وفاقی پولیس افسران کی خدمات واپس بھیج سکے گی۔ قانون پولیس پالیسی اور آپریشنل معاملات کے درمیان واضح علیحدگی قائم کرتا ہے اور نگرانی کے نئے بورڈ بناتا ہے۔
قانون کے تحت چیف منسٹر پولیس پالیسی بورڈ کے سربراہ ہوں گے جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس آپریشنز بورڈ کی قیادت کریں گے۔ صوبائی پولیس سربراہ کو سالانہ پولیسنگ پلان تیار کرنا ہوگا جس میں ترجیحات، کارکردگی کے اہداف اور آئندہ اقدامات شامل ہوں گے اور اسے منظوری کے لیے پالیسی بورڈ میں پیش کیا جائے گا۔ صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد صوبے بھر میں علاقائی تفتیشی افسران تعینات کیے جائیں گے۔
وزیر نے بتایا کہ علاقائی اور ضلعی پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلے خیبر پختونخوا رولز آف بزنس 1985 کے تحت ہوں گے۔ ترقیوں، فاسٹ ٹریک ترقیوں اور براہ راست بھرتیوں کے کوٹے میں توازن پیدا کیا جائے گا۔ تمام موجودہ تنازعاتی حل کونسلیں تحلیل کر کے نئے قانون کے تحت دوبارہ تشکیل دی جائیں گی۔
کابینہ نے پولیس ایکٹ کے علاوہ خیبر پختونخوا اسٹامپ (ترمیمی) بل 2026، پشاور واٹر سپلائی اسکیم کے تحت انٹیک اسٹرکچر اور سرنگ کے نظرثانی شدہ تخمینوں اور چترال میں اسپورٹس کمپلیکس کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دی۔ منٹ مرر نے بتایا کہ مجوزہ قانون کا مقصد جدید، جوابدہ اور عوامی خدمت پر مبنی پولیس نظام قائم کرنا اور سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔