خیبر پختونخوا میں ڈینگی کیسز 4,856 تک، کوہاٹ سب سے زیادہ متاثر
صوبائی رپورٹ کے مطابق کوہاٹ میں 2,822 کیسز سامنے آئے جو کل تعداد کے نصف سے زائد ہیں، پشاور میں 611 اور خیبر میں 430 کیسز ریکارڈ ہوئے۔

خیبر پختونخوا میں ڈینگی بخار کے کیسز کی تعداد 4,856 تک پہنچ گئی ہے، جب اتوار کے روز 51 نئے کیسز سامنے آئے۔ یہ اعداد و شمار ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کے انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ ریسپانس سسٹم (آئی ڈی ایس آر ایس) کی تیار کردہ صوبائی ڈینگی رپورٹ میں بتائے گئے ہیں۔
ڈان نے یہ اعداد و شمار شائع کیے اور بتایا کہ کل کیسز میں سے 2,244 صرف اکتوبر کے مہینے میں ریکارڈ ہوئے، جسے صوبہ ڈینگی کے پھیلاؤ کا عروج کا مہینہ سمجھتا ہے۔ اخبار نے اپنی رپورٹ آئی ڈی ایس آر ایس کی صورتحال رپورٹ کی بنیاد پر دی۔
سب سے زیادہ متاثرہ ضلع کوہاٹ ہے جہاں 2,822 کیسز ریکارڈ ہوئے، جو صوبائی کل تعداد کے نصف سے زائد ہیں۔ اس کے بعد پشاور میں 611 اور خیبر میں 430 کیسز سامنے آئے۔ ڈان کی شائع کردہ رپورٹ میں انہی تین اضلاع کا ذکر تھا، ضلع وار مکمل تفصیل اس حصے میں شامل نہیں تھی جو اس اخبار کو دستیاب ہوا۔
ڈان کے مطابق ماہرین نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا ہے کیونکہ کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور صوبہ اب بھی پھیلاؤ کے عروج کے مہینے میں ہے۔ دستیاب رپورٹ میں اخبار نے ماہرین کے نام یا تجویز کردہ مخصوص اقدامات کا ذکر نہیں کیا۔
آئی ڈی ایس آر ایس کے اعداد و شمار وہی ہیں جو صوبائی محکمہ صحت ضلع وار بیماری کی صورتحال جاننے کے لیے شائع کرتا ہے۔ خلاصے کے مطابق رپورٹ میں اسپتال میں داخل مریضوں، اموات یا بیڈ کی دستیابی کے اعداد و شمار شامل نہیں۔
ڈینگی ایڈیز مچھر سے پھیلتا ہے جو ٹھہرے ہوئے پانی میں افزائش کرتا ہے اور مون سون کی بارشوں کے بعد کے ہفتوں میں سب سے زیادہ متحرک ہوتا ہے۔ پاکستان میں عام طور پر کیسز ستمبر میں بڑھتے ہیں، اکتوبر میں عروج پر پہنچتے ہیں اور درجہ حرارت گرنے کے ساتھ کم ہونے لگتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے اعداد و شمار میں ابھی یہ کمی نظر نہیں آئی۔
صوبے میں حالیہ موسموں کے دوران کوہاٹ اور پشاور مسلسل سب سے زیادہ کیسز رپورٹ کرنے والے اضلاع میں شامل رہے ہیں۔ رپورٹ میں اتوار کو سامنے آنے والے 51 نئے کیسز ہی تازہ ترین یک روزہ اضافہ بتایا گیا ہے۔

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔