مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

خیبر پختونخوا حکومت نے پی ٹی آئی نظربندی کالعدم کرنے والے فیصلے چیلنج کر دیے

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ ان درخواستوں پر سماعت کرے گا جو چیف سیکریٹری کے توسط سے دائر کی گئیں اور جن میں 51 کارکنان شامل ہیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
خیبر پختونخوا حکومت نے پی ٹی آئی نظربندی کالعدم کرنے والے فیصلے چیلنج کر دیے
تصویر: Express News

خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے ان احکامات کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے جن میں تین ایم پی او کے تحت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی نظربندی کالعدم قرار دی گئی تھی اور انہیں گرفتار نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

درخواستیں صوبائی چیف سیکریٹری کے توسط سے دائر کی گئی ہیں اور سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ ان درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ اردو پوائنٹ نے بھی درخواست دائر ہونے اور بینچ کی تشکیل کی خبر دی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نظربندیاں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد کی گئیں۔ ہائی کورٹ نے الگ الگ مقدمات میں تین ایم پی او کے تحت جاری احکامات کو کالعدم قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ متعلقہ افراد کو گرفتار نہ کیا جائے۔

ذرائع کے حوالے سے ایکسپریس نیوز نے بتایا کہ درخواستیں 51 پی ٹی آئی کارکنوں سے متعلق ہیں، جن میں احسان، حق نواز خان، صدرالرحمان، فضل اللہ، عمران سعید، محمد ادریس، سلمان، خان نواب، فدا محمد، بخت کرم، اظہار اللہ، امجد علی، جمشید علی، محمد اشفاق، فضل جہان، داؤد خان، سعیدالرحمان، انعام اللہ، اصغر منیر، عادل، حضرت علی، حنیف اختر، غلام اللہ، تیمور، نصیر، مبشر شاہ، محمد اکمل، اجمل شاہ، حیات خان، سجاد، نیاز محمد، عبدالوہاب، گل بادشاہ، فضل کریم، راجہ لیاقت زمان، منیر خان جدون، محمد نعمان، سید فہیم شاہ، ملک حارث، کاشف خان، دانیال، زیبان خان، رشید بابر، دلبر خان، محمد جہانگیر اور نوید شہزاد شامل ہیں۔

انہی ذرائع نے بتایا کہ گورنر راج کے تحت قائم صوبائی حکومت مزید 150 پی ٹی آئی کارکنوں کی نظربندی سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف بھی وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرے گی۔

کسی بھی رپورٹ میں سماعت کی تاریخ نہیں بتائی گئی اور نہ یہ واضح کیا گیا کہ عدالت نے درخواستوں میں نامزد کارکنوں کو نوٹس جاری کیے ہیں یا نہیں۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں صوبائی حکومت یا نظربند کارکنوں کی جانب سے پیش ہونے والے وکلاء کا نام بھی درج نہیں۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے، اور صوبائی انتظامیہ چیف سیکریٹری کے دفتر کے ذریعے ہائی کورٹ سے ملنے والی ریلیف کو چیلنج کر رہی ہے۔

اردو پوائنٹ کی رپورٹ میں درخواست دائر ہونے اور بینچ کی تشکیل کے علاوہ کوئی تفصیل موجود نہیں تھی۔

صحتخیبر پختونخوا

خیبر میں پولیو کا نیا کیس، رواں سال آٹھویں کیس کی تصدیق

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق 2 نومبر سے 8 نومبر تک 97 اضلاع میں مہم چلے گی جس میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 24 ملین بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

سلامتیخیبر پختونخوا

اپر دیر پولیس نے نوعمر لڑکے پر حملے کے پانچ ملزمان گرفتار کر لیے

واری سرکل کے ڈی ایس پی فخر عالم نے ڈان کو گرفتاریوں کی تصدیق کی، مقدمہ 30 اکتوبر کو درج ہوا جبکہ واقعہ 25 اکتوبر کا بتایا گیا ہے اور ایک ملزم اب بھی فرار ہے۔

سیاستخیبر پختونخوا

صوبے کے وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے، گورنر خیبر پختونخوا

فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں عرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باہر کی کوئی بھی پارٹی مقامی لوگوں کی رضامندی سے مشترکہ منصوبے کے ذریعے ہی آ سکتی ہے۔

سلامتیخیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا پولیس نے 12 اضلاع کے لیے وفاق سے 40 ارب روپے مانگے

آئی جی ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ رقم ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹم اور بلیٹ پروف گاڑیوں پر خرچ ہوگی اور تمام 12 اضلاع میں سيف سٹی منصوبے ایک سال میں مکمل کیے جائیں گے۔