خیبرپختونخوا حکومت نے اکتوبر سے ماہانہ صفائی فیس عائد کردی
رہائشی املاک پر پلاٹ کے رقبے کے مطابق 100 سے 200 روپے، دکانوں پر 250 اور بڑے کاروباری اداروں پر 1000 روپے ماہانہ فیس ہوگی۔

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے شہری علاقوں کے لیے ماہانہ صفائی فیس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، اور یہ فیس اکتوبر 2026 کے آغاز سے جمع کی جائے گی۔
سرکاری سرکلر کے مطابق رہائشی املاک پر پلاٹ کے رقبے کی بنیاد پر 100، 150 یا 200 روپے ماہانہ فیس عائد ہوگی۔ کمرشل دکانوں کے لیے 250 روپے ماہانہ فیس مقرر کی گئی ہے، جب کہ ہوٹلز، پیٹرول پمپس، فیکٹریوں اور بڑے کاروباری مراکز سمیت کمرشل اداروں سے 1000 روپے ماہانہ وصول کیے جائیں گے۔
سرکلر کے مطابق مساجد، مدارس، سرکاری اسکولوں اور دیگر خصوصی اداروں کو اس فیس سے استثنیٰ دیا گیا ہے، لیکن "دیگر خصوصی اداروں" کی مکمل فہرست فراہم نہیں کی گئی۔
صوبائی حکام نے بتایا کہ یہ اقدام صفائی مہم کا حصہ ہے اور اس کا مقصد شہری علاقوں میں صفائی اور کچرے کے انتظام کا زیادہ مؤثر نظام قائم کرنا ہے۔ حکومت نے شہریوں سے اپنے اطراف صاف رکھنے اور کچرا صرف مخصوص مقامات پر پھینکنے کی اپیل بھی کی ہے۔
اے آر وائی نیوز اور پرو پاکستانی دونوں نے سرکاری سرکلر کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے، اور فیس کے درجے اور استثنیٰ کے حوالے سے دونوں رپورٹیں یکساں ہیں۔ کسی بھی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ فیس کی وصولی کس طریقے سے ہوگی یا عدم ادائیگی پر کیا جرمانے عائد ہوں گے۔
فیس کا ڈھانچہ رہائشی املاک کے تین درجے اور کمرشل املاک کے دو درجے رکھتا ہے۔ حکومت نے صفائی کی بہتری کے بیان کردہ مقصد کے علاوہ کوئی نئی سروس گارنٹی فیس سے منسلک نہیں کی۔
اطلاع کے مطابق فیس اکتوبر 2026 کے آغاز سے ماہانہ بنیادوں پر جمع کی جائے گی، اور حکام نے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔ یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری سرکلر میں کیا گیا ہے، جس کا اطلاق شہری علاقوں پر ہوگا جہاں کچرے کی صفائی کی خدمات مرکوز ہیں۔

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔